کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: میدانِ جنگ سے بھاگ کر اپنی کسی جماعت سے جا ملنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً ، فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَتَخَبَّأْنَا فِي الْبُيُوتِ ، ثُمَّ ظَهَرْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : هَلَكْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ، فَقَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ، أَنَا فِئَتُكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ کیا، (ہم لوگ وہاں سے بھاگ گئے اور مدینہ آکر گھروں میں چھپ گئے، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے، ہم تو (میدان جنگ سے) بھاگ آئے ہیں، فرمایا: آپ مضطرب نہیں، بلکہ پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں اور میں آپ کی جماعت میں شامل ہوں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1050
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 2/70، سنن أبي داود : 2647، سنن الترمذي : 1716، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب کہا ہے۔ یزید بن ابی زیاد راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف الحفظ ہے۔»