کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: دشمن کی وہ تعداد جن کے سامنے سے بھاگنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُتِبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ عَشَرَةٍ ، وَأَنْ لا يَفِرَّ عِشْرُونَ مِنْ مِائَتَيْنِ فَخُفِّفَ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66 ، وَكَتَبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَفِرَّ مِائَةٌ مِنْ مِائَتَيْنِ ، وَلا عَشَرَةٌ مِنْ عِشْرِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پر فرض تھا کہ ایک آدمی دس (آدمیوں) کے مقابلے سے نہ بھاگے اور بیس آدمی دو سو (آدمیوں) کے مقابلے سے نہ بھاگیں، پھر ان پر نرمی کی گئی اور ارشاد فرمایا: ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنْكُمْ﴾ (الأنفال: 66) (اب اللہ نے تم پر نرمی کر دی ہے) اور ان پر فرض کر دیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلے سے اور دس آدمی بیس آدمیوں کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1049
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 4652»