کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: قتال سے پہلے مشرکین کو (اسلام کی) دعوت دینے کے ترک کا بیان
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى أَسْأَلُهُ ، هَلْ كَانَتِ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ الإِسْلامِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُونَ ، وَأَنْعَامُهُمْ تَسْقِي عَلَى الْمَاءِ ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " ، حَدَّثَنِي بِهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کو یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا کہ کیا قتال سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے؟ تو انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنی مصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے، آپ نے انہیں قتل کیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کیا، جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بھی انہی قیدیوں میں سے تھیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو خود اس لشکر میں شامل تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1047
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2541، صحیح مسلم : 1730»