کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثني عَبْدُ الرَّزَّاقِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عَلَى السِرَّاجِ لَيْلَةَ الْوَدَاعِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ غَيْرَ مَعْمَرٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی حاکم اجتہاد (کوشش) سے درست فیصلہ کرتا ہے، تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب کوئی حاکم اجتہاد سے فیصلہ کرتا ہے، لیکن وہ فیصلہ غلط ہوتا ہے، تو اسے بھی ایک اجر ملتا ہے۔ ابو محمد کہتے ہیں: ہمیں معلوم نہیں کہ اس حدیث کو معمر کے علاوہ کسی اور نے ثوری سے بیان کیا ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 996
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح سنن النسائي
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح سنن النسائي : 5383، سنن الترمذي : 1326، سنن الدارقطني : 4/204، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (6397) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5060) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَقْضِ الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی اگر غصہ کی حالت میں ہو، تو وہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 997
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 7158، صحیح مسلم : 1717»
حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ : أنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت کا سوال مت کریں، اگر آپ کو بغیر مانگے مل جائے، تو آپ کی اس پر مدد کی جائے گی اور اگر طلب کرنے پر دی جائے، تو آپ اس کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 998
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6722، صحیح مسلم : 1652»
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِنْ قَضَيْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " ، الْحَدِيثُ لِهَارُونَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہیں، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، اگر میں آپ میں سے کسی کے لیے اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں، تو میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، چنانچہ وہ اس میں سے کچھ بھی وصول نہ کرے۔ یہ الفاظ ہارون بن اسحاق کی حدیث کے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 999
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 7168، صحیح مسلم : 1713»
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْد ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْو مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئًا فَلا يَأْخُذْهُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهِ إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ : فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي لأَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا هَذَا ، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ، ثُمَّ اسْتَهِمَا ، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن کے درمیان پرانی وراثت کا جھگڑا تھا، ان دونوں کے پاس دلیل نہیں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہو، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، میں آپ سے جو سنتا ہوں، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں، جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں، تو وہ نہ لے، کیوں کہ میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن آگ بھڑکانے والے آلے کی صورت میں اپنی گردن میں ڈال کر لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں آدمی روتے ہوئے کہنے لگے: میں اپنا حق اپنے بھائی کو دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ ایسے کرنا چاہتے ہیں، تو جائیں اور حق و انصاف کے ساتھ مال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپس میں قرعہ اندازی کریں اور دونوں ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 6/320، سنن أبي داؤد : 3584، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (9514) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ : ثني سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْهَا " . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی ان شرائط پر ثابت رہیں، جو حق کے موافق ہوں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1001
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف الحديث حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف الحديث حسن : مسند الإمام أحمد : 2/366، سنن أبي داود : 3594، سنن الدارقطنی : 3/27، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5091) نے صحیح کہا ہے۔ حمزہ بن مالک بن حمزہ اسلمی کے بارے میں حافظ الہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: لم أعرفه (مجمع الزوائد : 5/255)۔ حمزہ بن مالک کی متابعت موجود ہے۔»
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کسی نئی چیز کا اضافہ کیا، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1002
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2697، صحیح مسلم : 17/1718-18»
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ رَجُلا فِي تُهْمَةٍ سَاعَةً ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگانے کے جرم میں تھوڑی دیر کے لیے قید کیا، پھر چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 2/5، سنن أبي داود : 3630، السنن الكبرى للنسائي : 4879-4880، سنن الترمذي : 1417، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (10214) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔ بہز بن حکیم بصری ہیں۔»
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّ هَذَا افْتَرَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِيدَانَ ، فَقَالَ لَهُ : بَيِّنَتُكَ ، قَالَ : لَيْسَ لِي ، قَالَ : يَمِينُهُ ، قَالَ : إِذًا يَذْهَبُ بِهَا ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ إِلا ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ يَحْلِفُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ دو آدمی آپ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک جس کا نام امرؤ القیس بن عابس کندی تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا مد مقابل ربیعہ بن عیدان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے قسم لی جائے گی۔ وہ کہنے لگا: تو وہ زمین لے جائے گا، فرمایا: آپ کے پاس صرف یہی صورت ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی سے زمین چھین لی، قیامت والے دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اللہ اس سے ناراض ہو گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 139/224»
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا الْحَارِثُ بْنُ سَلْمَانَ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : ثنا كُرْدُوسٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ كِنْدَةَ ، وَرَجُلا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا ، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : إِنَّهَا أَرْضٌ فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي ، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ : هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنْ لِيَحْلِفْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالا بِيَمِينِهِ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ " ، فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ کندہ اور حضرموت سے ایک ایک آدمی اپنی یمن کی زمین کے متعلق مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے والد نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندی سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں یہ کہتا ہوں کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور مجھے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! دلیل تو نہیں ہے، لیکن یہ اس ذات کی قسم کھائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ نہیں جانتا یہ زمین میری ہے، اس کے والد نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ کندی قسم کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی سے مال چھینتا ہے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ تو کندی نے زمین اسے واپس کر دی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1005
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 2/215، سنن أبي داود : 3622، السنن الكبرى للبيهقي : 10/180، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5088) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (4/295) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا ، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالا : ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُباب ، قَالَ : أنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ " ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَلَفٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، فَقَالَ : كَانَ عِنْدَنَا ثَابِتًا مِمَّنْ يَصْدُقُ وَيَحْفَظُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرما دیا۔ (کسی فیصلہ کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر دو گواہ نہ ہوں، تو ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔) علی بن عبد الله کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید سے سیف بن سلیمان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ ہمارے نزدیک ثابت تھا، سچے اور حافظ لوگوں میں سے تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1006
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1712»
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1007
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح سنن أبي داود
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح سنن أبي داود : 3610، سنن الترمذي : 1343، سنن ابن ماجه : 2368، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6015) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5073) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1008
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 3/305، سنن الترمذي : 1344، سنن ابن ماجه : 2369»
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : ثني ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بستی والوں کے خلاف خانہ بدوش کی گواہی جائز نہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1009
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح سنن أبي داود
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح سنن أبي داود : 3602، سنن ابن ماجه : 2367»
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : ثني عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ يُحَدِّثْنِي ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ : " كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ ؟ قَالَ : فَنَهَاهُ عَنْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو إہاب کی بیٹی سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2659»
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ عُقْبَةَ أَيْضًا ، قَالَ " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : " فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِقَوْلِ هَذِهِ ؟ دَعْهَا عَنْكَ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَسَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ ؟ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا اور عرض کی: وہ جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے دوسری طرف سے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! وہ جھوٹی ہے، فرمایا: اس (عورت) کی بات کا کیا کیا جائے؟ اسے طلاق دے دیں۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 5104»
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ ، فَأَسْرَعَ الْفَرِيقَانِ جَمِيعًا ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِينِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں پر قسم پیش کی، تو دونوں ہی گروہ قسم کھانے میں تیزی دکھانے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2674»
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ لِيَقْطَعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لا حَتَّى تَقْطَعَ لإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینا چاہا تو انہوں نے کہا: ہم اس وقت تک نہیں لیں گے، جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو نہ دیں، آپ نے فرمایا: میرے بعد دوسرے لوگوں کو آپ پر ترجیح دی جائے گی، تو آپ مجھ سے ملنے تک صبر کرنا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2376»
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : ثني اللَّيْثُ ، قَالَ : ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أُعْمِرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " ، قَالَ عُرْوَةُ : وَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلافَتِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسی زمین آباد کی جو کسی کی ملکیت نہ تھی، تو وہی اس کا حقدار ہو گا۔ عروہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2335»
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بنجر زمین کے گرد دیوار بنائی (اور اسے آباد کیا)، تو وہ محصور زمین اسی کی ملکیت ہوگی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1015
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن : مسند الإمام أحمد : 5/12-21، سنن أبي داود : 3077، السنن الكبرى للنسائي : 5763، مسند الطيالسي : 906، المعجم الكبير للطبراني (7/209، ح : 6865) میں قتادہ سے شعبہ روایت کر رہے ہیں، لہذا قتادہ کی تدلیس کا اعتراض رفع ہوا، امام حسن بصری رحمہ اللہ کی سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کتاب سے ہوتی ہے۔»
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: چراگاہ اللہ اور اس کے رسول کی ہی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1016
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2370»
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أنا أَبُو عَوَانَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، كِلاهُمَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يُوسُفَ ابْنِ أُخْتِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَعَرْضُهُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر راستے کے متعلق جھگڑا ہو جائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1017
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1613»
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَ أَذْرُعٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے کا عرض سات ہاتھ رکھیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1018
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح : مسند الإمام أحمد : 2/429، سنن أبي داود : 3633، سنن الترمذي : 1356، سنن ابن ماجه : 2338، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اوپر والی حدیث اس کے لیے اصل ہے۔»
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَرَقَ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کی زمین چھینی (قبضہ کر لیا)، تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1019
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2452، صحیح مسلم : 1610»
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي حَائِطٍ فَلا يَمْنَعْهُ " ، فَلَمَّا قَضَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَهُ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ ، قَالَ : مَالِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ، وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنے پڑوسی سے دیوار پر لکڑی (شہتیر وغیرہ) رکھنے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے، جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث پوری کی تو انہوں (سامعین) نے اپنے سر جھکا لیے، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس سے منہ موڑ رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور ڈالوں گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1020
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاري : 2463، صحیح مسلم : 1609»
حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاهُمَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " ، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجِذْرِ " ، وَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ السَّعَةَ لِلزُّبَيْرِ وَلِلأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : مَا أَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ إِلا نزلت فِي ذَلِكَ : فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 الآيَةَ ، وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری آدمی جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوا تھا، حرہ (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی نالیوں کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جن سے وہ دونوں اپنی کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے، انصاری کہتا تھا: پانی کو بہنے دیا کریں، روکا نہ کریں، جب کہ (سیدنا زبیر) اس کا انکار کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! کھیتی سیراب کرنے کے بعد پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دیا کریں۔ انصاری ناراض ہو کر کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے آپ نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصے سے) بدل گیا، پھر فرمایا: زبیر! کھیتی کو سیراب کر کے پانی کو روکے رکھنا حتیٰ کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر کو پورا پورا حق دیا، جب کہ پہلے آپ نے سیدنا زبیر کو اپنی طرف سے ایسا مشورہ دیا تھا، جس میں سیدنا زبیر اور انصاری دونوں کے لیے گنجائش موجود تھی، سیدنا زبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ (النساء: 65) (اللہ کی قسم! یہ مؤمن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ آپ کو اپنے جھگڑوں میں فیصلہ تسلیم کر لیں۔) ایک راوی نے دوسرے کی نسبت لمبا واقعہ بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1021
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2708، صحیح مسلم : 2357»
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَزَّازُ الدَّارِيُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ ، فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا ، فَأَلْقَتْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامٌ كَطَعَامٍ وَإِنَاءٌ كَإِنَاءٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے پیالے میں آپ کے لیے کھانا بطور تحفہ بھیجا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیالے پر اپنا ہاتھ مار کر اسے گرا دیا (وہ ٹوٹ گیا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے جیسا کھانا اور برتن جیسا برتن دو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1022
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2481-5225»
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَنْ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدِّينُ مَقْضِيُّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر فرما رہے تھے: مستعار لی ہوئی چیز ادا کی جائے گی، منحہ (دودھ کے لیے لیا ہوا جانور) لوٹایا جائے گا، قرض ادا کیا جائے گا اور ضامن تاوان ادا کرے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1023
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن له شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن له شواهد : مسند الإمام أحمد : 5/267، سنن أبي داود : 3565، سنن الترمذي : 670-1265، سنن ابن ماجه : 2398، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : ثني سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو چیز لیتا ہے، وہ ادا کرنے تک اس کے ذمہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1024
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 5/8، سنن أبي داود : 3561، سنن الترمذي : 1266، سنن ابن ماجه : 2400، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/47) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ سعید بن ابی عروبہ اور اس کا شیخ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي عُروة ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَلا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ ، قَالَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس ہیں، مجھے اور بچوں کو اتنا خرچ نہیں دیتے جو ہمیں پورا ہو جائے، الا یہ کہ میں ان کے مال سے خفیہ طور پر لے لوں۔ آپ نے فرمایا: آپ معروف طریقے سے اتنا مال لے لیا کریں جو آپ کو اور آپ کے بچوں کو کافی ہو جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1025
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 5364، صحیح مسلم : 1714»
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ أَخَذَهُ مِنْهُ وَطَلَبَ ذَلِكَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی (دیوالیہ آدمی) کے پاس اپنا سامان پہچان لے، تو وہ اس سے لے لے، نیز اگر کسی نے اس سے خریدا ہو تو وہ اس سے واپس لے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1026
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 5/16، سنن أبي داود : 3531، سنن النسائي : 4685، قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کی سند حجاج بن ارطاۃ ”ضعیف و مدلس“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»
حدیث نمبر: 1027
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أُصِيبُ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو پھلوں کی خریداری میں نقصان ہوا جس وجہ سے اس پر بہت زیادہ قرض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کریں۔ لوگوں نے صدقہ کیا مگر قرض پورا ادا نہ ہو سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ملتا ہے لے لیں، اس کے علاوہ آپ کے لیے کچھ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1027
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم : 1556»
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : ثني عَبَّادُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَ : ثني عَبْدُ الْمَجَيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي زَيْدٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلا أُقْرِئَكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا ، فَإِذَا فِيهِ : " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْدَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً عَبَّادٌ يَشُكُّ لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ وَلا خِبْثَةَ بَيْعِ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ نے مجھ سے کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ خط نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے ایک خط نکالا جس میں لکھا تھا: یہ تحریر اس بارے میں ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی خریدی تھی، مسلمانوں کی باہمی تجارت میں دھوکہ، برائی اور حیلہ بازی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1028
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن : مسند الإمام أحمد : 5/30، سنن الترمذي : 1216، سنن ابن ماجه : 2251، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والحديث حسن فى الجملة (تعليق التغليق : 3/219)۔ عباد بن لیث جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ اس کی متابعت منہال بن بحر (حسن الحدیث) نے کر رکھی ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (18/12) اور السنن الکبریٰ للبیہقی (5/328) میں اس کا ایک شاہد بھی ہے۔»