حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ذَهَبَ بِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَّ يَلِيك نَحَلْتَ مثل هَذَا ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : فَأَرْجِعْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“
حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : ثنا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَلَنِي نُحْلا لِيُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ هَذَا الْغُلامَ نُحْلا فَاشْهَدْ عَلَيْهِ ، قَالَ : " أَكَلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتُ مثل هَذَا ؟ قَالَ : لا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“
حدیث نمبر: 993
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کرنے کے بعد واپس لینے والا اس شخص کی طرح ہے، جو قے کرنے کے بعد دوبارہ نگل لے۔
حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالا : أنا عِيسَى ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعُ فِيهَا إِلا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا نَمَّ ، وَقَالَ عَلَى شِبَعٍ ، قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تحفہ دے کر اس سے واپس لے لے، بجز والد کے، جو وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے، جو تحفہ دے کر واپس لیتا ہے، اس کی مثال کتے جیسی ہے، جو کھاتا ہے، جب سیر ہو جاتا ہے، تو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹ لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى أَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي ، قَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، فَكُلُوهُ هَنِيئًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میرا باپ میرا مال ضائع کرنا چاہتا ہے، فرمایا: آپ اور آپ کا مال آپ کے باپ کی (ملکیت) ہے، آپ کا سب سے پاکیزہ کھانا آپ کی کمائی ہے اور آپ کی اولاد کا مال آپ کی کمائی ہے، چنانچہ آپ اسے بخوبی کھا سکتے ہیں۔