کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: وراثت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 ، قَالَ : وَرَثَةً ، وَفِي قَوْلِهِ : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33 ، قَالَ : كَانَ الْمُهَاجِرِيُّ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ بِالأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَلَمَّا نزلت الآيَةُ : وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 نسخت ، ثُمَّ قَرَأَ : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33 مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ ، وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن مجید کی آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) کے متعلق فرمایا: موالی کا معنی ورثا ہے اور ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) (جن لوگوں نے تم سے پکی قسمیں کھائی ہیں، انہیں بھی ان کا حصہ دو) کے متعلق فرماتے ہیں: مہاجرین جب مدینہ آئے، تو اس اخوت کی بنا پر انصار کا ترکہ پاتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کی تھی اور اپنے رشتہ داروں کا ترکہ نہیں پاتے تھے، جب آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) نازل ہوئی، تو پہلی آیت منسوخ ہوگئی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) یعنی امداد، تعاون، خیر خواہی اور ان کے حق میں وصیت باقی ہے جب کہ میراث ختم ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 953
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6747۔»
حدیث نمبر: 954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَقَالَ مرة يَبْلُغُ بِهِ : " لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " ، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث بن سکتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 954
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6764، صحيح مسلم : 1614۔»
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا عَفَّانُ ، قَالَ : ثنا وهَيْبٌ ، ح وَثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ : لأَوْلَى ذَكَرٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقداروں کو وراثت دینے کے بعد جو باقی بچ جائے وہ اس مرد کو دے دیں، جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے، زعفرانی نے مذکر کے لفظ استعمال کیے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 955
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6732، صحيح مسلم : 1615۔»
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَنِي سَلَمَةَ فَوَجَدَنِي لا أَعْقِلُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَرَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ : " كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فنزلت : يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے محلہ میں میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے مجھے بے ہوش پایا، تو پانی منگوا کر وضو کیا اور اس پانی کو مجھ پر چھڑکا، مجھے افاقہ ہوا، تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ (النساء: 11) (الله تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے گا۔)
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 956
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 4577، صحيح مسلم : 1616/5۔»
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالا فَهُوَ لِلْعَصَبَةِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ فَأَنَا وَلِيُّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (مسلمان) مال چھوڑ گیا، تو وہ اس کے عصبہ (ورثا) کے لیے ہے اور جو بوجھ (قرض) یا عیال چھوڑ گیا، تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، میں اس کا ولی ہوں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 957
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6745۔»
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " اشْتَكَيْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ ، قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، " فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ وُضُوءَهُ ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ؟ فَلَمْ يُجِبْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نزلت آيَةُ الْمِيرَاثِ " ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : قَالَ : نزلت فِيهِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، میں بے ہوش تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر وضو والا پانی مجھ پر چھڑکا، مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا فیصلہ کیسے کروں؟ میں اپنے مال کا کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ یہ آیت اتری ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (النساء: 176) (وہ آپ سے فتوٰی مانگتے ہیں، فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔)
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 958
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 7309، صحيح مسلم : 1616/5۔»
حدیث نمبر: 959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبَيْصَة بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ ، فَسَأَلَ النَّاسَ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حُضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ مِثْلَمَا قَالَ الْمُغِيرَةُ ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَمَا الْقَضَاءُ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ إِلا لِغَيْرِكِ ، وَمَا أَنَا زَائِدٌ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا ، وَأَيُّكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی نانی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتاب اللہ میں تو آپ کا کوئی حصہ مذکور نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے مجھے آپ کا حصہ معلوم ہے، واپس چلی جائیں، میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا، چنانچہ آپ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے (جدہ کو) چھٹا حصہ عطا کیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی (گواہ) ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر وہی بات کی، جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے یہ حکم نافذ کر دیا۔ پھر دوسری دادی نانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں تو آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ ہمیں پہنچا ہے، وہ آپ کے متعلق نہیں ہے، نیز میں فرائض میں اپنی طرف سے کچھ نہیں بڑھا سکتا اور آپ کا چھٹا حصہ ہے، اگر آپ دونوں موجود ہوں، تو وہ آپ دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور اگر آپ میں سے کوئی اکیلی ہوگی تو وہ چھٹا حصہ اسی کا ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 959
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف لانقطاعه : موطأ الإمام مالك : 2/513، سنن أبي داود : 2894، سنن الترمذي : 2101، سنن ابن ماجه : 2724، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2031) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/338) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ بغوی رحمہ اللہ (شرح السنتہ : 2221) نے ”حسن“ کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے کیونکہ اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے اس کے کہ یہ مرسل ہے کیونکہ قبیصہ کا ابوبکر صدیق سے سماع ثابت نہیں۔ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں: بہر حال یہ حجت ہے کیونکہ یہ صحابی کی مرسل ہے یا پھر یہ ممکن ہے کہ انہوں نے بعد میں مغیرہ یا محمد بن مسلمہ سے سنا ہو۔ ابن المنذر نے کہا ہے کہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ دادی کے لیے چھٹا حصہ ہے جبکہ ماں نہ ہو (التلخيص الحبير : 3/82، ح : 1349، البدر المنير : 8/208-209)۔»
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : أنا أَبُو الْمُنِيبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَطْعَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّةَ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ أُمًّا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ماں کے نہ ہونے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ (دادی) کو چھٹا حصہ دیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 960
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 2895، السنن الكبرى للنسائي : 6338۔»
حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ قَالَ : " لَكَ السُّدُسُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ سُدُسٌ آخَرُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَأَقَلُّ شَيْءٍ يَرِثُ الْجَدُّ السُّدُسُ ، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَهُ السُّدُسَ ، وَلا نَدْرِي مَعَ مَنْ وَرَّثَهُ ؟ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ایک اور بھی چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: دادے کی کم سے کم وراثت چھٹا حصہ ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے، نیز ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے اسے کس وارث کے ساتھ شامل کر کے چھٹا حصہ دلایا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 961
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 4/428، سنن أبي داود : 2896، سنن الترمذي : 2099، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، امام حسن بصری رحمہ اللہ کا سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔»
حدیث نمبر: 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنِ الْهُزَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ ، وَابْنَةَ ابْنِهِ ، وَأُخْتَهُ ، فَجَعَلَ لابْنَتِهِ النِّصْفَ ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسَ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا فیصلہ کیا، جو بیٹی، پوتی اور بہن چھوڑ (کر مر) گیا تھا، آپ نے بیٹی کو نصف اور پوتی کو چھٹا حصہ دیا، جو بچ گیا وہ بہن کو دے دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 962
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6742۔»
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ الأَسْوَدُ : " قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ ، قَالَ : قَضَى لابْنَتِهِ النِّصْفَ وَلِلأُخْتِ النِّصْفَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمارے ایک آدمی کا فیصلہ کیا، جو بیٹی اور بہن چھوڑ (کر مر) گیا تھا، کہ آدھا (مال) بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 963
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6741۔»
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ ، قَالَ : فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ فِي الأَعْرَاضِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَ غُلامًا فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ لا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ ، قَالَ : فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلِيُّ مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور اپنے جنگجوؤں کو تیر اندازی سکھائیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ (لوگ) مال غنیمت کے متعلق جھگڑ رہے تھے کہ ایک نامعلوم تیر آیا، اس نے ایک لڑکے کو مار ڈالا جو کہ اپنے ماموں کے زیر پرورش تھا، اس کے باپ کا کوئی پتہ نہ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ میں اس کی دیت کس کے حوالے کروں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اللہ اور اس کا رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 964
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيفٌ : مسند الإمام أحمد : 1/28، السنن الكبرى للنسائي : 6351، سنن الترمذي : 2103، سنن ابن ماجه : 2737۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5635) اور ابن حبان رحمہ اللہ (6037) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً " ، وَقَالَ الْهَيْثَمُ : أَوْ كَلا فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے لیے اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حقدار ہوں، جو قرض یا عیال چھوڑ گیا (ہیثم نے کلا کا لفظ بولا ہے) تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور جو (مسلمان) مال چھوڑ گیا، تو وہ اس کے ورثا کا ہے، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو میں اس کا مولیٰ ہوں۔ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا، اس کے قیدی کو چھڑاؤں گا، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو ماموں اس کا مولیٰ ہوگا، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 965
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 4/131، سنن أبي داود : 2900، السنن الكبرى للنسائي : 6356، سنن ابن ماجه : 2738، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5633) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6035) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/344) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، صحیح ابی عوانہ (5636) اور صحیح ابن حبان (6036) میں بسند حسن اس کا شاہد بھی آتا ہے۔»
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ ، وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ الْكِلابِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ " يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیت کے حقدار عاقلہ (باپ کی طرف سے رشتہ دار) ہیں، بیوی کو خاوند کی دیت سے وراثت نہیں ملے گی، حتی کہ ضحاک کلابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے وارث بناؤں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 966
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح وللحديث شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح وللحديث شواهد : مسند الإمام أحمد : 3/452، سنن أبي داود : 2927، سنن الترمذي : 2110، سنن ابن ماجه : 2642، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔ السنن الکبری للنسائی (6364) میں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحَ مَكَّةَ : " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا تھا: دو ادیان کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال کی وارث بنے گی اور خاوند بیوی کی دیت اور مال کا وارث بنے گا، جب تک ان میں سے کسی نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو، تو وہ اس کی دیت اور مال میں سے کچھ بھی وارث نہیں بنے گا، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا ہو، تو وہ اس کے مال کا وارث تو بنے گا، دیت کا وارث نہیں بنے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 967
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 2/178، 195، سنن أبي داود : 2911، سنن ابن ماجه : 2731، سنن الدارقطنی : 4/7372، حسن بن صالح بجلی راوی ”حسن الحدیث“ ہے، اسے امام ابن شاہین رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔ عمر بن سعید طائی راوی بھی ثقہ ہے۔»