حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَأْتِي النَّذْرُ بِابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ قَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ أَتَانِي مِنْ قَبْلُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر بن آدم کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدر میں نہ لکھی ہو، بلکہ نذر سے اسے وہی چیز ہی ملتی ہے، جو میں نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے، نذر کے ذریعے میں بخیل سے نکلواتا ہوں، اس (نذر ماننے کی وجہ سے) مجھے وہ ایسی چیز دیتا ہے، جو پہلے نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ بَنِي عَقِيلِ ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ ، وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " فَقَالَ : لِمَ أَخَذَتَنِي ، وَلِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ ؟ قَالَ : " أَخَذْتُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ " ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ، فَنَادَاهُ : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، قَالَ : " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاحِ " ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ، فَنَادَاهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " فَقَالَ : إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي ، وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي ، قَالَ : " هَذِهِ حَاجَتُكَ " قَالَ : فَفَدَى بِالرَّجُلَيْنِ . وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ ، وَكَانَ الْقَوْمُ يَرْعُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَيْ بُيُوتِهِمْ ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ ، فَأَتَتِ الإِبِلَ ، فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا ، فَتَرَكَتْهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ ، وَهِيَ نَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ ، وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ ، قَالَ : وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ ، فَقَالُوا : الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا إِنِ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا ، لا وَفَاءَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ الْعَبْدُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر بن آدم کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدر میں نہ لکھی ہو، بلکہ نذر سے اسے وہی چیز ہی ملتی ہے، جو میں نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے، نذر کے ذریعے میں بخیل سے نکلواتا ہوں، اس (نذر ماننے کی وجہ سے) مجھے وہ ایسی چیز دیتا ہے، جو پہلے نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثني عُتْبَةُ ، قَالَ : أنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلا يَعْصِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہے، وہ اس کی اطاعت کرے (یعنی نذر پوری کرے) اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی ہے، وہ نافرمانی نہ کرے (یعنی نذر پوری نہ کرے)۔
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : ثنا خَطَّابٌ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " النَّذْرُ نَذْرَانِ : فَمَا كَانَ لِلَّهِ فَكَفَّارَتُهُ الْوَفَاءُ ، وَمَا كَانَ لِلشَّيْطَانِ فَلا وَفَاءَ فِيهِ وَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر دو طرح کی ہوتی ہے، جو نذر اللہ کے لیے ہوتی ہے، اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور جو نذر شیطان کے لیے ہوتی ہے، اسے پورا کرنا درست نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثنا دَاوُدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتِهِ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيُّ عَنْ نَذَرِ أُخْتِكَ ، لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " ، وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : وَلْتُهْدِ بَدَنَةً .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بہن کے متعلق پوچھا، جس نے کعبہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کی بہن کی نذر سے بے نیاز ہے، وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ ذبح کر دے۔ اس روایت کو خالد حذاء نے بھی عکرمہ سے بیان کیا ہے، لیکن اونٹ ذبح کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ، وَاسْتَفْتَى لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ " ، وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ يَلْزَمُ عُقْبَةَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ہمشیرہ کے متعلق فتویٰ دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دیں کہ وہ سوار ہو جائیں۔ ابوالخیر عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : ثني وُهَيْبٌ ، قَالَ : ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلا يَقْعُدَ ، وَلا يَسْتَظِلَّ ، وَلا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ ، فَقَالَ : " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دھوپ میں کھڑے دیکھا، تو اس کے متعلق (لوگوں سے) پوچھا: انہوں نے بتایا: یہ ابو اسرائیل ہیں، انہوں نے نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑے رہیں گے، نہ بیٹھیں گے، نہ سائے میں جائیں گے، نہ کلام کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہیں کہ کلام کریں، سائے میں آجائیں، بیٹھ جائیں اور روزہ پورا کریں۔
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى رَجُلا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ، فَأَمَرَهُ فَرَكِبَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے بیٹوں کے سہارے چلتے ہوئے دیکھا، تو پوچھا: یہ کیا؟ انہوں نے کہا: اس نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی ہے، تو فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اس نذر کے ذریعے اپنے آپ کو تکلیف پہنچائے۔ چنانچہ آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذَرٌ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ فوت ہوئیں، تو ان کے ذمہ ایک نذر تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے مجھے ان کی طرف سے نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَلَمْ يُنْسِبْهُ ابْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ لَهُ : أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، تو آپ نے انہیں فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔
حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: اللہ کے رسول! میری بہن فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں (تو کیا میں رکھ لوں؟)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتائیے، اگر آپ کی بہن کے ذمے قرض ہوتا، تو آپ اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: تو اللہ کا حق زیادہ ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 943
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : ثنا أَبِي ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَأَنَّهَا مَاتَتْ ، فَقَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بہن فوت ہو چکی ہے، انہوں نے حج کی نذر مانی تھی (تو میں کیا کروں)، فرمایا: اگر ان پر قرض ہوتا، تو کیا آپ اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بھی (حق) ادا کریں، کیوں کہ وہ ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔
حدیث نمبر: 945
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ هَاهُنَا ، يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : صَلِّ هَاهُنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: یہیں مسجد حرام میں نماز پڑھ لیں۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے۔ فرمایا: یہیں نماز پڑھ لیں۔