حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ ، فَأَصَابَ الْقَوْمُ غَنَمًا وَإِبِلا ، فَعَجَّلُوا بِهَا ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ ، فَانْتَهَى إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ، وَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ ، قَالَ : وَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ ، فَرَمَاهُ الرَّجُلُ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهَا هَكَذَا " . قَالَ : قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَخَافُ ، أَوْ إِنَّا نَرْجُوا أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَكُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ ، فَأَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّى فِي بِئْرٍ بِالْمَدِينَةِ فَذُكِّيَ مِنْ قِبَلِ شَاكِلَتِهِ يَعْنِي خَاصِرَتَهُ " فَأَخَذَ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَشِيرًا بِدِرْهَمَيْنِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحلیفہ کے نچلے حصے میں (ٹھہرے ہوئے) تھے، لوگوں نے (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں حاصل کیں اور جلد بازی کرتے ہوئے (تقسیم سے پہلے ہی ذبح کر کے) انہیں ہانڈیوں میں پکانے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا، آپ نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ راوی کہتے ہیں: ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے، اگر ان میں سے کوئی آپ کو عاجز کر دے، تو اس کے ساتھ یہی سلوک کریں، پھر رافع بن خدیج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمیں خطرہ ہے، یا ہمیں امید ہے کہ کل (یعنی مستقبل قریب میں) ہمارا مقابلہ دشمن سے ہوگا، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کی کچھی سے ذبح کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز بھی خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تو اسے کھالیں، میں تمہیں (اس کی وجہ) بتاتا ہوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ پھر انہوں (رافع) نے کہا: ایک اونٹ مدینہ کے کنویں میں گر گیا، تو اسے کمر کی جانب سے ذبح کیا گیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا دسواں حصہ دو درہم میں لے لیا۔
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا حَبَّانُ يَعْنِي ابْنَ هِلالٍ ، قَالَ : ثنا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ : كَانَ أَيُّوبُ يُحَدِّثُنِي ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فَلَقِيتُ زَيْدًا فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ ثني عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " كَانَ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ ، فَعَرَضَ لَهَا فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : مِنْ حَدِيدٍ أَوْ مِنْ خَشَبٍ ؟ قَالَ : لا ، بَلْ مِنْ خَشَبٍ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْهَا ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کی اونٹنی تھی، جو احد (پہاڑ) کی جانب چرا کرتی تھی، وہ اس کے سامنے آیا، تو اسے میخ سے ذبح کر دیا (یعنی میخ اس کے گلے میں گھونپ دی) میں نے زید سے پوچھا: میخ لوہے کی تھی یا لکڑی کی؟ انہوں نے کہا: لکڑی کی تھی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا لَهُمْ بِسَلْعٍ ، فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ أَنْ تَمُوتَ ، فَأَخَذَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت سلع (پہاڑ) پر سیدنا کعب بن مالک کی بکریاں چرایا کرتی تھی، اسے ایک بکری کے مرنے کا خطرہ لاحق ہوا، تو اس نے ایک پتھر لیا اور اس سے بکری کو ذبح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس (بکری) کو کھالیں۔
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثنا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام معاملات میں حسن سلوک کو لازمی قرار دیا ہے، پس احسن انداز سے قتل کریں اور احسن انداز سے ہی ذبح کریں، آپ کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لیں اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائیں۔
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ ، فَقَالَ : " كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (پیٹ کے بچے) کے متعلق پوچھا، تو فرمایا: اگر چاہیں، تو اسے کھا سکتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنی ماں کے ذبح ہونے کی وجہ سے خود بھی ذبیح ہو جاتا ہے۔ (اس کی ماں کا ذبح ہونا اس کے لیے کافی ہے۔)
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا يَكُونُ الذَّكَاةُ إِلا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ " ، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : هَذَا فِي مَا لا يُقْدَرُ عَلَيْهِ ، يشبه التَّرَدِّيَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو عشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ (گردن کے گڑھے) یا حلق سے ہی ذبح کرنا درست ہے؟ فرمایا: اگر اس کی ران میں نیزہ (وغیرہ) مار دیں، تو بھی کافی ہے۔ ابن مہدی کہتے ہیں: یہ حکم اس جانور کے لیے ہے، جو بے قابو ہو، جیسے بلندی سے گرنے والا جانور وغیرہ۔