کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : ثنا قُرَّةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : أَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَيْسَ يَوْمُ النَّحْرِ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَيْسَ هَذَا ذَا الْحِجَّةِ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ ، أَلا لا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو خطبہ دیا تو فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا (آج) یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کا خون اور مال آپ پر اسی طرح حرام کیا ہے، جس طرح آپ کا آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والا ہے اور یہ حرمت قیامت کے دن تک ہے، کیا میں نے (اللہ کا) پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا۔ حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچا دے، بسا اوقات وہ آدمی جسے بات پہنچائی جاتی ہے، سننے والے کی نسبت زیادہ یاد رکھتا ہے، سن لیں! میرے بعد آپ کا کافر بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جائیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1741، صحیح مسلم: 1679/31»
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ثنا مُجَاهِدٌ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا " ، عَلَى مَا ذَكَرَ مُبَلِّغُهُ مَرْوَانَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جائے گی۔ مروان راوی نے ایسے ہی بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 834
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 186/2، سنن النسائي: 4754، رواه البخاري (6914) عن قيس بن حفص عن عبدالواحد بن زياد عن الحسن بن عمرو به.»
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، قَالَ : أنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی معاہد (ذمی) کو بلا وجہ قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 835
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 38/5، 39، سنن أبي داود: 2760، سنن النسائي: 4751، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4881) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (142/2) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔»
حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ ، كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلامَ مَنْ عَلَى الْبَلاطِ ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا إِسْلامٍ قَطُّ ، وَلا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِيَ بِدِينِي بَدَلا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ لَهُ ، وَلا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو امامہ بن سہل کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور (قید) تھے، تو میں ان کے پاس تھا، گھر میں داخل ہونے کا ایک ایسا راستہ تھا، جو شخص اس میں سے داخل ہوتا تو وہ بلاط (مدینہ میں ایک جگہ ہے) پر ہونے والی باتیں سن سکتا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس میں سے داخل ہوئے، جب باہر آئے، تو ان کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: وہ تو مجھے ابھی ابھی قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ ان سے کافی ہو جائے گا، آپ نے فرمایا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: صرف تین وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔ جو اسلام لانے کے بعد کفر کرے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے جو کسی کو ناحق قتل کر دے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اور نہ ہی اسلام میں اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت (اسلام) سے نوازا ہے، میں نے کبھی دین بدلنے کے متعلق سوچا بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 61/1، 62، سنن أبي داود: 4502، سنن النسائي: 4024، سنن الترمذي: 2158، سنن ابن ماجه: 2533، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: 287، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (350/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : ثنا أَبَانُ ، قَالَ : ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ جَارِيَةٍ بِحَجَرٍ ، ثُمَّ أَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَ عَلَيْهَا ، فَوَجَدُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ فَطَافُوا بِهَا ، أَهَذَا هُوَ ، أَهَذَا هُوَ ؟ حَتَّى دَلَّتْ عَلَى الْيَهُودِيِّ ، فَأَخَذُوهُ فَاعْتَرَفَ ، " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِحَ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے پتھر کے ساتھ ایک بچی کا سر کچل دیا اور اس کے زیورات اتار لیے، لوگوں نے اسے پکڑا، تو اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی، وہ اسے لے کر گھومنے لگے (اور پوچھنے لگے) کیا یہ وہی شخص ہے، کیا یہ وہی شخص ہے (جس نے آپ کو مارا ہے) حتی کہ اس نے یہودی کے متعلق بتایا، تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، یہودی نے اعتراف جرم کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 837
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6876، صحیح مسلم: 1672»
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثنا هَمَّامٌ ، قَالَ : أنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا فُلانٌ أَمْ فُلانٌ ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَ بِهِ ، " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے دو پتھروں کے درمیان ایک بچی کا سر کچل دیا، اس سے پوچھا گیا، آپ کے ساتھ ایسے کس نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یا فلاں نے؟ حتی کہ یہودی کا نام لیا گیا تو، اس نے اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 838
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2746، صحیح مسلم: 1672»
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ " ، زَادَ الأَحْمَسِيُّ : " وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قتل کرو، تو احسن انداز سے قتل کرو۔ احمسی کی روایت میں مزید یہ ہے: جب ذبح کرو، تو احسن انداز سے ذبح کرو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1955»
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : ثنا الْمُغِيرَةُ ، لَعَلَّهُ قَالَ : عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ایمان سب سے احسن اور محتاط انداز سے قتل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 840
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 393/1، سنن أبي داود: 2666، سنن ابن ماجه: 2686، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5994) نے صحیح کہا ہے۔ ابراہیم بن یزید نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، ہنی بن نویرہ حسن الحدیث ہے۔»
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ : أنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالاقْتِصَاصِ مِنَ السِّنِّ ، وَقَالَ : كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کا قصاص لینے کا حکم دیا اور فرمایا: اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 841
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6894»
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَدَعَا بِغُلامٍ لَهُ فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَالِي مِنْ أَجْرِهِ مَا يَزِنُ هَذَا أَوْ مَا سَاوَى هَذَا ، وَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ بِيَدِهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ عَبْدًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ ، أَوْ لَطَمَهُ ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
زاذان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلا کر آزاد کر دیا، پھر فرمانے لگے: مجھے اس کو آزاد کرنے کا اتنا بھی ثواب نہیں ملا اور آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین سے کوئی چیز اٹھائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام پر حد لگائی، جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا تھا یا اسے تھپڑ مارا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 842
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1657/30»
حدیث نمبر: 843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا دین تبدیل کرے، اسے قتل کر دیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 843
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6922»
حدیث نمبر: 844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَلا إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي عَلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ ، وَلا لِيَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَبْعَثُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ ، فَمَنْ فَعَلَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ , فَوَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ لَتَقُصَّنَّهُ مِنْهُ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّا لأَقُصَّنَّهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَنْ نَفْسِهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ " .
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 844
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن: مسند الإمام أحمد: 41/1، سنن أبي داود: 4537، سنن النسائي: 4281، فضائل القرآن للفريابي: 172، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (439/4) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ابوفراس نہدی حسن الحدیث ہے۔»
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا ، فَلاحَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ ، فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكُمْ كَذَا وَكَذَا ، فَلَمْ يَرْضَوْا ، قَالَ : فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا ، فَلَمْ يَرْضَوْا ، فَقَالَ : فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا ، فَرَضُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَؤُلاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا ، أَرَضِيتُمْ ؟ قَالُوا : لا ، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكُفُّوا ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ ، وَقَالَ : أَرَضِيتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَرَضِيتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم بن حذیفہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ایک آدمی نے اپنے صدقہ کے بارے میں ان سے جھگڑا کیا۔ ابو جہم نے مار کر اس کا سر پھوڑ دیا۔ اس کے اہل خانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قصاص (چاہیے۔) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قدر مال لے لیں، (قصاص رہنے دیں۔) وہ رضامند نہ ہوئے، فرمایا: اس قدر مال لے لیں لیکن وہ رضامند نہ ہوئے، فرمایا: اتنا مال اور لے لیں، تو وہ راضی ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: یہ لیثی میرے پاس قصاص لینے آئے، تو میں نے انہیں اس قدر مال کی پیش کش کی تو یہ رضا مند ہو گئے، کیا آپ راضی ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا، تو آپ نے انہیں فرمایا: باز رہیں۔ چنانچہ وہ باز آ گئے۔ آپ نے پھر انہیں بلایا اور زیادہ کی پیش کش کی اور فرمایا: کیا خوش ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور پوچھا: کیا خوش ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں!
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 845
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 232/6، سنن أبي داود: 4534، سنن النسائي: 4782، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4487) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالإِسْلامِ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ ، وَشَكُوا حُمَّى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِرَاعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَانْطَلَقُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ ، فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأَتَى بِهِمْ فَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضِمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا " قَالَ قَتَادَةُ : فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ أنزلت فِيهِمْ : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا کہ وہ زمیندار نہیں، بلکہ چرواہے ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اونٹوں اور چرواہوں کا (بندوبست کرنے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (مدینہ سے) باہر چلے جائیں، ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، وہ حرہ (پتھریلا میدان) کے ایک کونے میں چلے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، انہیں لایا گیا، تو آپ نے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے ڈالی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، پھر انہیں حرہ کے کنارے میں پھینک دیا گیا وہ پتھر چباتے چباتے مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں خبر ملی ہے کہ آیت ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ﴾ (المائدة: 33) انہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 846
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 4192، صحیح مسلم: 1671»
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَمَرَ أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَرُوا أَعْيَنَ الرُّعَاةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں (گرم) سلائیاں ڈالیں، کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں ڈالی تھیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 847
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1671»
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، وَالْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ ، قَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بیوی نے کالے رنگ کا بچہ جنا ہے، آپ نے پوچھا: کیا آپ کے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: ان کا رنگ کیسا ہے؟ اس نے کہا : سرخ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ان میں کوئی اونٹ خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے کئی اونٹ ہیں ۔ آپ نے پوچھا: وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اس نے کہا: ہوسکتا ہے کسی رگ نے انہیں کھینچ لیا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہو سکتا ہے، اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 848
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6847، صحیح مسلم: 1500»
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : أنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكًا وَكَانَ ظَالِمًا ، أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی التوبہ سیدنا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے غلام پر جھوٹی تہمت لگائی ، تو قیامت کے دن اس پر حد لگائی جائے گی الا یہ کہ وہ اپنی بات میں سچا ہو ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 849
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6858، صحیح مسلم: 1660»
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أنا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، قَالَ : ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے علاوہ (کسی جرم میں ) دس سے زائد کوڑے نہ لگائے جائیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 850
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6848، صحیح مسلم: 1660»
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ ، قَالَ : أنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الأَبْنَاوِيِّ ، عَنْ خَلادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَجَلَدَهُ مِائَةً ، وَكَانَ بِكْرًا ، ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو بکر بن لیث قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، وہ کنوارا تھا، آپ نے اسے سو کوڑے لگائے ، پھر آپ نے اس سے عورت کے خلاف دلیل مانگی ، تو وہ عورت کہنے لگی : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ آپ نے اسے حد قذف ( تہمت ) میں (80) کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 851
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 4467، السنن الكبرى للنسائي: 7348، اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ”منکر“ کہا ہے، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ (370/4، 371) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے رد و تعاقب میں کہتے ہیں: ”القاسم ضعیف“۔ قاسم بن فیاض ابناوی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔»