حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد مقدار چوری کرنے پر ہاتھ کاٹتے تھے۔
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا قَطَعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثمر (وہ پھل جو ابھی درخت پر ہو) اور کثر (خرمہ درخت کا گوند جو چربی سے مشابہ ہوتا ہے) کی چوری پر قطع ید نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْحَبْلِ ؟ قَالَ : " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ ، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ ؟ فَقَالَ : " هُوَ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ وَالنَّكَالُ ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ قَطْعٌ إِلا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ (یعنی اگر کوئی وہاں سے چوری کر لے، تو کیا حکم ہے؟) فرمایا: وہ جانور کے ساتھ جانور واپس کرے گا اور سزا بھی پائے گا، جانور چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان جانوروں کے علاوہ جو باڑے کے اندر ہوں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، جو درخت پر لٹک رہے ہوں؟ فرمایا: اس کے ساتھ دو گنا پھل واپس دے گا اور سزا بھی پائے گا، پھل چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان پھلوں کے علاوہ جو کھلیان میں رکھے گئے ہوں، سو جو پھل کھلیان سے چرائے جائیں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالُوا : ثنا عَمْرُو ابْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَسْبَاطٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ ، وَقَالَ هَارُونُ : جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ ثَمَنُهَا ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ؟ أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنَسِّيهِ ثَمَنَهَا ، قَالَ : " فَهَلا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ؟ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
**إسناده ضعيف:** سنن أبي داود: 4394، سنن النسائي: 4887، اس میں سماک بن حرب کا اختلاط ہے، نیز اسباط بن نصر کی سماک سے روایت میں کلام ہے۔