حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَدُّ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ ، أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: سن لیں! ہر وہ خون (حسب و نسب) یا مال یا کوئی بھی کام جو زمانہ جاہلیت میں بطور فخر سمجھا جاتا تھا، میرے قدموں کے نیچے ہے (اس کی کوئی اہمیت نہیں) بجز حاجیوں کو پانی پلانے اور اس کے گھر کی حفاظت کرنے کے۔ پھر فرمایا: سن لیں! قتل خطأ جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو، کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ (اونٹنیاں) ہوں گی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: سنن أبي داود: 4547، 4548، سنن النسائي: 4797، سنن ابن ماجه: 2627، سنن الدارقطني: 104/3، 105، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6011)، حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ (بیان الوهم والإيهام: 410/5) اور حافظ نووی رحمہ اللہ (شرح صحيح مسلم: 83/9) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ ، وَالْخَبْلُ الْجُرْحُ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ ، أَوْ يَعْفُوَ ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ ، فَإِنْ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَإِنَّ لَهُ النَّارَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس کو قتل کیا جائے یا زخمی کیا جائے تو اس کے ورثا کو تین میں سے ایک چیز اختیار کرنے کا حق ہے، قصاص لے لیں، معاف کر دیں یا پھر دیت لے لیں، اگر وہ کسی چوتھی چیز کا ارادہ کریں، تو ان کا ہاتھ پکڑ لیں، جو ان میں سے کوئی حق لینے کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا، تو وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 774
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 31/4، سنن أبي داود: 4496، سنن ابن ماجه: 2623، سفیان بن ابی العوجاء کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات“ (319/4) میں ذکر کیا ہے، خود امام ابن الجارود رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ”حسن الحدیث“ ہے، لہٰذا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تقريب التهذيب: 2450) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (الكاشف: 300/1) کا اسے ”ضعیف“ کہنا صحیح نہیں، اس حدیث کے بارے میں علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» (نخب الأفكار: 221/15)۔ محمد بن اسحاق نے شرح مشکل الآثار للطحاوی (4905) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : أنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " كَانَ الْقِصَاصُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ ، فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 178 ، قَالَ : عَلَى هَذَا أَنْ يَتْبَعَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَعَلَى هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كَانَ كَتَبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة البقرة آية 178 " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، الله تعالیٰ نے اس امت (محمدیہ) سے ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ (البقرة: 178) (اے ایمان والو! تم پر مقتولین میں قصاص فرض کر دیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت ہے، جسے اس کے بھائی (مقتول کے وارث) کی طرف سے معاف کر دیا جائے) سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں: معاف کرنے سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت لے لے، ﴿فَاتِبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ (البقرة: 178) (تو دستور کے مطابق پیروی کرنی ہے اور اچھے طریقے سے ادائیگی کرنی ہے) دیت لینے والے پر لازم ہے کہ دستور کے مطابق پیروی کرے اور دیت دینے والے پر لازم ہے کہ اچھے طریقے سے ادا کر دے ﴿ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (البقرة: 178) (یہ تمہارے رب کی طرف سے نرمی ہے) اس کی بہ نسبت جو تم سے پہلے لوگوں پر (قصاص) فرض کیا گیا تھا ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (البقرة: 178) (اس کے بعد جو زیادتی کرے گا، تو اس کے لیے المناک عذاب ہے)۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 775
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 4498، صحيح مسلم: 6881»
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور پیٹ کے بچے سمیت اسے قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے، تو آپ نے یوں فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کی دیت غرّہ یعنی غلام یا لونڈی ہے اور آپ نے (مقتولہ) عورت کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈال دی اور مقتولہ کے بیٹے کو دیگر ورثاء سمیت اس کا وارث ٹھہرایا، حمل بن نابغہ ہذلی کہنے لگا: میں اس بچے کی دیت کیوں ادا کروں؟ جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ بولا نہ چلایا، ایسے بچے کا خون تو رائیگاں ہے۔ اس کی سجع کلامی کو دیکھ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 776
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6910، صحيح مسلم: 1681»
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، وَفِي تِلْكَ السَّرِيَّةِ أَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ ، وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، فَبَيْنَا نَحْنُ إِذْ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الأَضْبَطِ الأَشْجَعِيُّ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا بِتَحِيَّةِ الإِسْلامِ ، فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ ، ثُمَّ حَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ وَسَلَبَهُ بَعِيرًا لَهُ وَوَطْبًا مِنْ لَبَنٍ كَانَ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نزل فِينَا الْقُرْآنُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا سورة النساء آية 94 إِلَى آخِرِ الآيَةِ " . قَالَ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : ثني أَبِي وَجَدِّي ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالا : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَامَ إِلَيْهِ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ ، عُيَيْنَةَ يَطْلُبُ بِدَمِ الأَشْجَعِيِّ ، وَالأَقْرَعُ يَدْفَعُ عَنْهُ ، فَاخْتَصَمْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا " ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ ، فَلَمَّا قَبِلُوا الدِّيَةَ ، قَالُوا : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ ؟ فَيَسْتَغْفِرُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ طَوِيلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ قَدْ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : أَنَا مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ " فَقَامَ مِنْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو حَدْرَدٍ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں ایک سرّیہ میں بھیجا، جس میں میں بھی شامل تھا اور ابو قتادہ انصاری اور مُحَلِّم بن جثامة بن قیس بھی شامل تھے، ہم جا رہے تھے کہ ہمارے پاس سے عامر بن الأضبط أشجعی گزرا اور اس نے ہمیں سلام کا اسلامی تحیہ پیش کیا، ہم نے اسے قتل نہ کیا، پھر مُحَلِّم بن جثامة نے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور اس کا اونٹ اور رطب (تازہ کھجوریں) جو اس کے پاس تھے، چھین لیے، جب ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ہمارے متعلق قرآن اترا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا...﴾ (النساء: 94) آخر آیت تک۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں: میرے باپ اور دادا غزوہ حنین میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے مجھے بتایا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر درخت کے سائے میں بیٹھ گئے، اقرع بن حابس اور عُيَيْنَة بن بدر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، عُيَيْنَة أشجعی کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے اور اقرع اس کا دفاع کر رہے تھے، چنانچہ وہ دونوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کافی دیر جھگڑتے رہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: دیت کے پچاس اونٹ دوران سفر لے لو اور پچاس واپس جا کر، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کہتے رہے حتیٰ کہ وہ دیت پر راضی ہو گئے، جب وہ دیت لینے پر راضی ہو گئے تو کہنے لگے: تمہارا ساتھی (مُحَلِّم) کہاں ہے؟ تاکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس کے لیے استغفار کر دیں، ایک لمبا آدمی کھڑا ہوا جس نے حُلّہ (جوڑا) پہنا ہوا تھا اور قتل ہونے کے لیے تیار تھا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، تو آپ نے پوچھا: نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں مُحَلِّم بن جثامة ہوں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ مُحَلِّم بن جثامة کو معاف نہ کرے۔ چنانچہ وہ اپنی چادر سے آنسو پونچھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 777
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سيرة ابن هشام: 275/4، مصنف ابن أبي شيبة: 547/14، مسند الإمام أحمد: 112/5، دلائل النبوة للبيهقي: 305/4، 306، محمد بن اسحاق نے مسند الامام احمد (112/5) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے، قعقاع بن عبداللہ راوی ”حسن الحدیث“ ہے۔ زیاد بن ضمیرہ والی سند بھی ”حسن“ ہے، زیاد راوی ”حسن الحدیث“ ہے، دیکھیں: مسند الامام احمد: 10/6، زوائد مسند الامام احمد: 112/5 سنن ابی داود: 4503 سنن ابن ماجہ: 2625، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (الإصابة: 64/3) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ أَوْ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينًا ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو عورتیں سوتنیں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی لکڑی ماری اور اس کے پیٹ کا بچہ گرا دیا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کی دیت غرّہ یعنی غلام یا لونڈی ہے اور آپ نے دیت عورت کے عصبہ پر ڈال دی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم: 1682»
حدیث نمبر: 779
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الطَّبَرِيُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہر خاندان پر دیت ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 779
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم: 1507»
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : أنا الْحُسَيْنُ ابْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِيَةُ الأَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ ، فِي كُلِّ إِصْبُعٍ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے اور ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 780
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سنن أبي داود: 4561، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (1391) نے حسن صحیح غریب اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6012) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 781
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : ثنا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ (دیت) ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 781
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 207/2، سنن أبي داود: 4562، سنن النسائي: 4855، اس کا ایک شاہد بھی ہے۔ (سنن أبي داود: 4556، سنن ابن ماجه: 2654، السنن الكبرى للبيهقي: 92/8)۔»
حدیث نمبر: 782
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ " يَعْنِي فِي الدِّيَةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کو اکٹھا کر کے فرمایا: ان دونوں کی دیت برابر ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6895»
حدیث نمبر: 783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ، وَهَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالإِبْهَامُ ، وَالضِّرْسُ وَالثَنِيةُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ یعنی انگوٹھا اور چھوٹی انگلی برابر ہیں، یہ اور یہ یعنی ڈاڑھ اور سامنے والا دانت (دیت میں) برابر ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 783
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6895»
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا فِيهِ : " وَالرِّجْلُ خَمْسُونَ ، وَالْيَدُ خَمْسُونَ ، وَفِي أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ فِي كُلُّ إِصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَنْفِ إِذَا أَوْعَى جَدْعًا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا محمد بن عمر بن حزم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ کر دی، جس میں تھا کہ ٹانگ کی دیت پچاس اونٹ ہے، ہاتھ کی دیت پچاس اونٹ ہے، ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے، ناک اگر پوری کاٹی جائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے اور دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 784
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف لإرساله
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف لإرساله: موطأ الإمام مالك: 849/2، سنن النسائي: 4857، السنن الكبرى للبيهقي: 81/8»
حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، قَالَ : ثنا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، قَالَ : ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ، وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ (دیت) ہے اور مواضح (ایسا زخم جس سے ہڈی نظر آ جائے) کی دیت پانچ پانچ اونٹ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 785
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سنن أبي داود: 4566، سنن النسائي: 4856، سنن الترمذي: 1390، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْمُوضِحَةِ بِخَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ بِثُلُثِ الدِّيَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے موضحہ (ہڈی نظر آنے والے زخم) میں پانچ اونٹ اور مأمومہ (دماغی زخم) میں ایک تہائی دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 786
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف لإرساله
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف لإرساله: تقدم تخريجه في الرقم: 784»
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أنا مُطَرِّفٌ ، قَالَ : أنا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا أَأُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی الله عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کوئی غیر محرم مرد دیکھ لوں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ فرمایا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 787
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم: 1498»
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ : ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ جَارِيَةٌ ، فَأَصَابَ مِنْهَا ابْنًا ، فَكَانَ يَسْتَخْدِمُهَا ، فَلَمَّا شَبَّ الْغُلامُ دُعِيَ بِهَا يَوْمًا ، فَقَالَ : اصْنَعِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ الْغُلامُ : لا تَأْتِيكَ حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمَرُ أُمِّي ؟ قَالَ : فَغَضِبَ أَبُوهُ فَحَذَفَهُ بِسَيْفِهِ فَأَصَابَ رِجْلَهُ أَوْ غَيْرَهَا فَقَطَعَهَا فَنَزَفَ الْغُلامُ فَمَاتَ ، فَانْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ الَّذِي قَتَلْتَ ابْنَكَ ؟ لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يُقَادُ الأَبُ بِابْنِهِ " لَقَتَلْتُكَ ، هَلُمَّ دِيَتَهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلاثِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ ، قَالَ : فَتَخَيَّرَ مِنْهَا مِائَةً فَدَفَعَهَا إِلَى وَرَثَتِهِ وَتَرَكَ أَبَاهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو مدلج کے ایک آدمی کے پاس ایک لونڈی تھی، جس سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ آدمی اس لونڈی سے خدمت کروایا کرتا تھا، جب لڑکا جوان ہو گیا تو اس آدمی نے ایک دن لونڈی کو بلا کر کہا کہ فلاں فلاں کام کر دو، لڑکا کہنے لگا: وہ آپ کے پاس نہیں آئیں گی، کب تک آپ میری ماں پر حکم چلاتے رہیں گے؟ اس کے باپ نے غصے میں آکر اس کی طرف تلوار پھینکی جو اس کی ٹانگ یا اس کے علاوہ کسی جگہ پر لگی اور اس کو کاٹ دیا، لڑکے کا خون بہہ نکلا اور وہ مر گیا، وہ شخص اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اے اپنی جان کے دشمن! تو نے خود ہی اپنے بیٹے کو قتل کر دیا ہے، اگر میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہ کیا جائے تو میں تجھے قتل کر دیتا، اس کی دیت ادا کرو۔ راوی کہتے ہیں: وہ آدمی ایک سو بیس یا تیس اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے ان میں سے سو اونٹ پسند کر لیے اور باپ کے علاوہ باقی ورثاء میں تقسیم کر دیے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 788
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن الدارقطني: 140/3، 141، السنن الكبرى للبيهقي: 38/8، محمد بن عجلان مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن سعد رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے کسی حجرے میں جھانکا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک مدرى (پشت خار) تھی جس سے آپ اپنے سر میں خارش کر رہے تھے، فرمایا: اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں تو میں یہ مدرى آپ کی آنکھوں میں چھو دیتا، اجازت لینے کا حکم نظر کی وجہ سے ہی تو رکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 789
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6901، صحيح مسلم: 2156»
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : ثني أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ نَاسٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، فَلا دِيَةَ لَهُ وَلا قِصَاصَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو بغیر اجازت لوگوں کے گھروں میں جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اسے نہ دیت ملے گی اور نہ قصاص ملے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 790
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 385/2، سنن النسائي: 4864، الديات لابن أبي عاصم، ص 44، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2004) نے صحیح کہا ہے۔ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اطَّلَعَ عَلَيْكَ رَجُلٌ فِي بَيْتِكَ فَرَمَيْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی آپ کے گھر میں جھانکے اور آپ کنکری مار کے اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 791
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: شرح مشکل الآثار للطحاوي: 932، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2002) نے صحیح کہا ہے۔ محمد بن عجلان مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُخْبِرُ قَالَ : أَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ ، وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، وَالْحَدِيثُ لَهُ ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ ، وَكَانَتْ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي ، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيتُهُ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيتَهُ ، قَالَ عَطَاءٌ : وَحَسَبْتُ أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ فَتَقْضِمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ ؟ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا یعلى بن امیہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ عسرہ (غزوہ تبوک) میں شامل ہوا تھا اور یہ میرا ایسا عمل تھا جس پر مجھے سب سے زیادہ بھروسہ تھا، میرا ایک غلام تھا جو کسی آدمی سے لڑ پڑا، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کا ہاتھ چبا دیا، اس نے اپنی انگلی باہر کھینچی تو چبانے والے کا سامنے والا دانت گر گیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے آیا تو آپ نے اس کا دانت رائیگاں قرار دیا۔ امام عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میرے خیال میں صفوان نے بیان کیا تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چبا جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 792
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 2265، صحيح مسلم: 1674»
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَامَ فِينَا خَطِيبًا ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : قَدْ كَتَبْتُهُ فِي السِّيَرِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے سال جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ ابو محمد کہتے ہیں: میں نے وہ خطبہ کتاب السیر میں لکھا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 793
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن: مسند الإمام أحمد: 180/2، 191، 212، 216، سنن أبي داود: 4583، السنن الكبرى للبيهقي: 335/6، محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کی متابعت مسند الامام احمد (215/2) وغیرہ میں عبدالرحمن بن حارث نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : لا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، إِلا أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : قُلْتُ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ ، وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو جحیفہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز (فرمان وغیرہ) موجود ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا! اس صحیفے اور کتاب الله میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سمجھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت (کے احکام)، قیدیوں کو آزاد کرنا اور یہ کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 794
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 6915»
حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَوَّلُ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ سَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي ، قَالَ : ثني سَعِيدٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَحَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى ، فَلَمْ يَقُلْ فِيهِ : وَالْبِئْرُ جُبَارٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: چوپایوں سے زخم آجانے پر کوئی دیت نہیں، کان میں گر کر مرنے والے کی کوئی دیت نہیں، کنویں میں گر کر مرنے والے کی کوئی دیت نہیں اور رکاز (مدفون خزانہ) میں خمس ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 795
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 1499، صحيح مسلم: 1710»
حدیث نمبر: 796
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدٍ ، " أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَحَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابُوا بِاللَّيْلِ " ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَرُبَّمَا قَالَ : عَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ ، وَقَالَ مَرَّةً : مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سعید بن مسیب اور حرام بن سعد بیان کرتے ہیں کہ براء کی اونٹنی کسی قوم کے باغ میں گھس گئی اور اسے خراب کر دیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت کھیتی کی حفاظت کرنا مالک کی ذمہ داری ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کریں وہ جانوروں کے مالکوں کے ذمہ ہے۔ ابن مقری نے اسی مفہوم کو چند الفاظ کی تبدیلی سے بھی بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف لإرساله
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف لإرساله: مسند الإمام أحمد: 295/4، سنن أبي داود: 3570، سنن ابن ماجه: 2332، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (47/2، 48) نے صحيح الإسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، اسے امام مالک رحمہ اللہ (747/2، 748) نے بھی روایت کیا ہے۔»