حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ : أَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي ، قَالَ : ابْنُكَ ؟ قُلْتُ : أَشْهَدُ بِهِ ، قَالَ : " لا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ الأَحْمَرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو رِمْثَةَ تیمی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: آپ اس پر گواہ رہیں، فرمایا: آپ کو اس کے گناہ میں اور اسے آپ کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا۔ کہتے ہیں: میں نے سرخ بڑھاپا دیکھا (آپ نے مہندی لگائی ہوئی تھی)۔
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثني هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں، ان کا معمولی آدمی بھی پناہ دینے کا حق رکھتا ہے اور وہ غیر مسلم کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وُدِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 قَالَ ، فَالْقِسْطُ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، ثُمَّ نزلت أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں قریظہ اور نضیر (یہودیوں کے دو قبیلے) تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ معزز تھے، جب کبھی نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو سو وسق کھجور اس کا فدیہ دے دیا جاتا اور جب کبھی قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو اسے اس (مقتول) کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مبعوث ہوئے، تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کا آدمی قتل کر دیا، انہوں نے کہا: اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فیصلہ ہیں، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ (المائدة: 42) (آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو انصاف سے فیصلہ کریں) اور انصاف یہ ہے کہ جان کے بدلے جان، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (المائدة: 50) (کیا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟)