کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، يَقُولُ : أَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلاقُ ، وَالرَّجْعَةُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین امور ایسے ہیں، جو قصداً کیے جائیں یا ہنسی مذاق میں کیے جائیں، واقع ہو جاتے ہیں: 1. نکاح، 2. طلاق، 3. رجعت۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 712
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 2194، سنن الترمذي : 1184 ، سنن ابن ماجه : 2039، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب اور امام حاکم رحمہ اللہ (198/2) نے "صحیح الاسناد" کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخيص الحبير : 210/3) نے اسے حسن کہا ہے، راوی عبدالرحمن بن حبیب بن اردک ”حسن الحدیث“ ہے، اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.»
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : ثني عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ ، وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلافٍ ، وَجَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ ، وَبَعَثَ بِهَا مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَلَمْ يَبْعَثْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ، وَكَانَ مَهْرُ نِسَائِهِ أَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، تو وہ حبشہ کے علاقے میں تھیں۔ نجاشی نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور اپنے پاس سے انہیں چار ہزار (درہم) مہر اور جہیز دیا اور انہیں شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ام حبیبہ) کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی اور آپ کی (باقی) بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 713
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 427/6 ، سنن أبي داود : 2086 ، سنن النسائي : 3352، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (181/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ ”مدلس“ ہیں ، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 714
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 714
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : انظر الحديث السابق»
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ : نَوَاةٌ مِنْ ذَهَبٍ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ : النَّوَاةُ : خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، وَالنَّشُّ : عِشْرُونَ دِرْهَمًا ، وَالأُوقِيَّةُ : أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے شادی کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: آپ نے انہیں مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا (دیا ہے)۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: نواة پانچ درہم کو کہتے ہیں، نشّ بیس درہم کو، اور اوقیہ چالیس درہم کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 715
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 5167 ، صحیح مسلم : 1427»
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّا فِي الْقَوْمِ ، إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ : إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : زَوِّجْنِيهَا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، قَالَ : فَذَهَبَ وَلَمْ يَجِئْ بِشَيْءٍ وَلا بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ : أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں خود کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، میرے متعلق اپنے خیال کا اظہار کیجیے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: ان سے میری شادی کروا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر کچھ تلاش کر لائیے، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ راوی کہتے ہیں: وہ گیا اور نہ تو لوہے کی انگوٹھی لایا اور نہ ہی کوئی اور چیز لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ کو قرآن کی کوئی سورت یاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ان سورتوں کے عوض جو اسے یاد تھیں، اس کی شادی کر دی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 716
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 5029 ، صحیح مسلم : 1425»
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں ہمارا مہر دس اوقیہ ہوا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 717
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 367/2، سنن النسائي: 3350، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4097) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (175/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَدِيثُ لَهُ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : فَرَدَّهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي ، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي ، أَرَى " لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لا وَكْسَ وَلا شَطَطَ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ " قَالَ : فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رَوَّاسٍ ، وَبَنُو رَوَّاسٍ حَيُّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا، جس نے کسی عورت سے شادی کی، نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ ہی اس سے مباشرت کی اور فوت ہو گیا۔ علقمہ کہتے ہیں: آپ نے ان کو واپس کر دیا، پھر کہنے لگے: میں اس بارے میں اپنی رائے ہی پیش کرتا ہوں۔ اگر درست ہوئی، تو اللہ کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی، تو میری طرف سے ہوگی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اسے اس جیسی (دیگر) خواتین کے برابر مہر ملے گا، نہ کم ہوگا، نہ زیادہ۔ وہ میراث کی حقدار بھی ہوگی اور اس پر عدت بھی ضروری ہے۔ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو رواس کی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔ بنو رواس، بنو عامر بن صعصعہ کا ایک خاندان ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 718
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الإمام أحمد: 480/3، سنن أبي داود: 2115، سنن النسائي: 3359، سنن الترمذي: 1145، سنن ابن ماجه: 1891، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4099) نے صحیح کہا ہے، سند میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ سنن نسائی (3360) میں حسن سند کے ساتھ اس کا شاہد موجود ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (4101) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (180/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار (وٹہ سٹہ) سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 5112، صحيح مسلم: 1415»
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ نَافِعٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " ، وَالشِّغَارُ : أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار (وٹہ سٹہ) سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہوتا ہے کہ کوئی آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی مرد سے اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کرے گا اور دونوں نکاحوں میں مہر ادا نہ ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 720
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 5112، صحيح مسلم: 1415»
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، قَالَ : ثنا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ ، وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی مہر بنایا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 5086، صحيح مسلم: 1365»
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أنا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان کسی ایک کی طرف ہو جائے (ان میں برابری کا خیال نہ رکھتا ہو) وہ قیامت کے روز آئے گا، تو اس کا آدھا جسم مفلوج ہو گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 722
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 347/2، 471، سنن أبي داود: 2133، سنن النسائي: 3942، سنن الترمذي: 1141، سنن ابن ماجه: 1969، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4207) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (186/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اخبار اصبہان لأبی نعیم الاصبہانی (300/2) میں اس کا ایک ”ضعیف“ شاہد آتا ہے، اس میں محمد بن حارث حارثی ”ضعیف“ ہے۔»
حدیث نمبر: 723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، منْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے، تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے نام قرعہ نکل آتا، اسے ساتھ لے جاتے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 723
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 2661، صحيح مسلم: 2770»
حدیث نمبر: 724
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص کنواری لڑکی سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات راتیں قیام کرے اور جب کوئی ثیّبہ (شوہر دیدہ) سے شادی کرے، تو تین راتیں قیام کرے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 724
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 5214، صحيح مسلم: 1461»
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ " . " وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمًا وَلَيْلَتَهَا ، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے نام قرعہ نکل آتا، اسے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن اور رات تقسیم کر رکھی تھی، البتہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 725
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 2593»
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شادی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ولیمہ کریں، خواہ ایک بکری ہی ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 726
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 5167، صحيح مسلم: 1427»
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ حَفْصَةَ ، أَوْ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ، فَأَوْلَمَ عَلَيْهَا تَمْرًا وَسَويِقًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا یا کسی اور بیوی سے شادی کی تو کھجور اور ستو کے ساتھ ولیمہ کیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 727
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الحميدي: 1218، سنن أبي داود: 3744، سنن الترمذي: 1095، سنن ابن ماجه: 1909، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4061) نے صحیح کہا ہے، صحیحین میں اس کا شاہد موجود ہے۔»
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِي ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، لا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا، لہذا عورتوں کی پشت میں جماع مت کریں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 728
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح له شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح له شواهد: مسند الحميدي: 440، مسند الإمام أحمد: 213/5، السنن الكبرى للنسائي: 8933، السنن الكبرى للبيهقي: 196/7، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4294) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4198) نے صحیح کہا ہے، سفیان بن عیینہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ مسند الإمام أحمد (86/1) اور سنن ترمذی (1164) میں اس کا بسندِ حسن شاہد بھی آتا ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4199) نے صحیح کہا ہے، اس کا راوی مسلم بن سلام حنفی ”حسن الحدیث“ ہے۔»
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھیں گے، جس نے مرد سے لواطت کی یا عورت کی پشت میں جماع کیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 729
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: السنن الكبرى للنسائي: 9001-9002، سنن الترمذي: 1165، مسند أبي يعلى: 2378، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4203، 4204، 4418) نے صحیح کہا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنن ابن ماجہ (1923) اور شرح معانی الآثار للطحاوی (44/3) میں بسندِ حسن شاہد بھی آتا ہے، الفاظ یہ ہیں: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا». اس حدیث کے بارے میں امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وقد صح عنہ“۔ (مسائل الإمام أحمد وإسحاق: 3531) حافظ بوصیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”إسنادہ صحیح، لأن ابن مخلد ذکرہ ابن حبان فی الثقات وباقی رجال الإسناد ثقات“۔ (مصباح الزجاجة: 97/2) اس کا راوی حارث بن مخلد ”صدوق حسن الحدیث“ ہے۔»
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتِ : اخْتَصَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ ، وَسَعْدٌ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ آخُذَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَإِنَّهُ ابْنِي ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عبد بن زمعہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے متعلق جھگڑ پڑے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں، تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو اپنے قبضہ میں لے لوں، کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ کہنے لگے: یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ (سیدنا سعد کے بھائی) کے ساتھ اس کی واضح مشابہت دیکھ کر فرمایا: عبد بن زمعہ! بچہ آپ کا ہی ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہی ہوتا ہے۔ اور (سیدہ) سودہ (بنت زمعہ) رضی اللہ عنہا! آپ اس لڑکے سے پردہ کیا کریں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 2421، صحيح مسلم: 1457»
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ : ثنا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ لأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، أَوْ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْقي مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا پانی دوسرے کے بچے کو پلائے یا یہ کہ وہ اپنا پانی دوسرے کے بچے کو نہ پلائے (پہلے سے حاملہ عورت کے ساتھ جماع نہ کرے)۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 731
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح له طرق وشواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح له طرق وشواهد: مسند الإمام أحمد: 108/4، سنن أبي داود: 2158، سنن الترمذي: 1131، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4850) نے ”صحیح“ کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثنا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن (گھریلو) گدھوں کے گوشت، ہر کچلی والے درندے کے گوشت اور جنگی قیدی عورتوں کے ساتھ جماع کرنے سے منع کیا ہے، تا آنکہ ان کا وضع حمل ہو جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند أبي يعلى: 2491، امام حاکم رحمہ اللہ (40/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ اعمش مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اعمش کی متابعت ابن ابی نجیح ”مدلس“ نے سنن نسائی (4649)، سنن دارقطنی (68/3، 69) اور مسند ابی یعلی (2414) میں کی ہے، سماع کی تصریح نہیں کی، اسے امام حاکم رحمہ اللہ (56/2) نے ”صحیح الاسناد“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»