حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّباب ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا: ”اے نوجوانو! جو نان نفقہ کی طاقت رکھتا ہو، وہ شادی کرے، کیونکہ نکاح نگاہ نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ روزے رکھے، کیونکہ اس سے شہوت میں کمی آجائے گی۔“
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، ح وَثَنًا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : ثني أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل (شادی نہ کرنے) سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : " أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَعْدٌ : فَلَوْ أَجَازَ ذَلِكَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَيْنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتل کرنا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا۔ سیدنا سعد بیان کرتے ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَطَبْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں! فرمایا: اسے دیکھ لیں، اس طرح زیادہ توقع ہے کہ آپ کے درمیان الفت پیدا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَدْوَمُ لِمَا بَيْنَكُمَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھ لو، کیونکہ اس طرح آپ کے درمیان زیادہ الفت پیدا ہوگی۔
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَلِيٌّ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَنَاجَشُوا ، وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا " ، زَادَ عَلِيٌّ : لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ بچاؤ (یعنی قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا) مت کرو، کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، اور کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ اس کے برتن کو اُنڈیل دے۔
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : أنا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَنْبَغِي لامْرَأَةٍ أَنْ تَشْتَرِطَ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ إِنَاءَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کی شرط لگائے تاکہ اس کے برتن کو اُنڈیل دے۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أنا عَبْثَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ ، فَقَالَ : وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ ، أَنْ يَقُولَ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاثَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ : اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 وَ اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور ضرورت کے لیے تشہد سکھایا۔ چنانچہ انہوں نے تشہدِ نماز اور تشہدِ حاجت دونوں بیان کیے اور فرمایا: تشہدِ حاجت یوں پڑھنا چاہیے: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمَنْ يَهْدِهِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفوس کے شرور سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پھر تین آیات کی تلاوت کرے: ﴿اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102) ﴿وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (النساء: 1) ﴿اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ (الأحزاب: 70) (اللہ تعالیٰ سے ویسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اسلام پر ہو۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور رشتہ داروں کا خیال رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور درست بات کہو)۔
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : ثنا زُهَيْرٌ ، قَالَ : ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ ، قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ؟ فَقَالَ : فَأَفْعَلُ مَاذَا ؟ قَالَتْ : تَنْكِحُهَا ، قَالَ : " أُخْتَكِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ، قَالَ : فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ، أَوْ ذَرَّةَ الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ : بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ ، فَلا تَعْرِضَنَّ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلا أَخَوَاتِكُنَّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن میں رغبت ہے؟ فرمایا: میں اسے کیا کروں؟ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں۔ فرمایا: آپ کی بہن سے؟ کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ عرض کیا: میں تنہا آپ کی بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن بھی اس سعادت (آپ کی زوجیت) میں میرے ساتھ شریک ہو جائے۔ فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے (کیونکہ دو بہنیں ایک ساتھ نکاح میں نہیں ہو سکتیں)۔ انہوں (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ یا ذرہ کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ام سلمہ کی بیٹی کو؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ (بیوی کی وہ بیٹی جو پہلے خاوند سے ہو) نہ بھی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے والد دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا آپ اپنی بیٹیاں اور بہنیں مجھے (شادی کے لیے) پیش نہ کیا کریں۔
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ بْنُ حَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيتُ عَمِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً ، فَقُلْتُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، انہوں نے جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کی گردن مارنے (قتل کرنے) اور اس کا مال چھیننے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کر لیا ہے۔
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَاعْتُرِضَ عَنْهَا ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصِيبَهَا ، فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا ، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا وَهُوَ زَوْجُهَا الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا قَبْلَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا ، فَقَالَ : " لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو طلاق دے دی۔ عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔ عورت کی طرف سے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کی گئی تو وہ اس سے جماع نہ کر سکے اور ہاتھ لگائے بغیر ہی اسے طلاق دے دی۔ تمیمہ کے پہلے خاوند رفاعہ نے دوبارہ ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفاعہ کو ان سے شادی کرنے سے روک دیا اور فرمایا: وہ اس وقت تک آپ کے لیے حلال نہیں جب تک وہ جماع کا ذائقہ نہ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي طَلاقًا بِنْتُ مِنْهُ ، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَإِنَّهُ عَلَيْهِ مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ؟ لا ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: رفاعہ نے مجھے ایسی طلاق دی ہے کہ میں اس سے علیحدہ ہو گئی ہوں اور میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ہے، مگر اس کا عضو کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر فرمانے لگے: آپ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں؟ اس وقت تک نہیں جا سکتیں جب تک کہ وہ آپ کا اور آپ اس کا مزہ نہ چکھ لیں۔
حدیث نمبر: 684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : أنا مُعَلًّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُخَرِّمِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت کی ہے۔
حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا دَاودُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : ثنا عَامِرٌ ، قَالَ : ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا ، أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، لا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى ، وَلا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی کی موجودگی میں بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے اور بھتیجی کی موجودگی میں پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ خالہ کی موجودگی میں بھانجی کے ساتھ نکاح سے منع کیا ہے اور بھانجی کی موجودگی میں خالہ کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ بڑے رشتے والی کی موجودگی میں چھوٹے رشتے والی سے اور چھوٹے رشتے والی کی موجودگی میں بڑے رشتے والی سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلاهُ وَأَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کر لی، وہ زانی ہے۔
حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلادَةُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جنہیں ولادت (نسب) حرام کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا يَحْيَى ، أَنَّ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " نزل فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، وَهِيَ تُرِيدُ مَا يُحْرَمُ مِنَ الرَّضَاعِ " ، قَالَتْ عَمْرَةُ : ثُمَّ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ ، قَالَتْ : نزل بَعْدُ خَمْس .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں دس دفعہ مکمل دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت کا حکم نازل ہوا تھا۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: بعد میں پانچ بار دودھ پینے کا حکم نازل ہوا۔
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا ، وَأَنَا فُضُلٌ وَإِنَّمَا كُنَّا نَرَاهُ وَلَدًا وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا ، فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ " ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَأْمُرُ أَخَوَتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ يَرَاهَا ، وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَوَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: سالم مولیٰ ابو حذیفہ ہمارے پاس آتا ہے، جب کہ میں تنہائی والے لباس میں ہوتی ہوں۔ ہم اسے بیٹا ہی تصور کرتے تھے، کیونکہ ابو حذیفہ نے اسے اسی طرح منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ﴾ (الأحزاب: 5) (منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کرکے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ تم سالم کو (اپنا) دودھ پلا دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا، تو وہ ان کا رضاعی بیٹا بن گیا۔ اسی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بہنوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتی تھیں کہ اس شخص کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، جسے وہ اپنا آپ دکھانا چاہتیں یا یہ چاہتیں کہ وہ ان کے پاس آ جایا کرے، خواہ وہ بڑی عمر کا ہی ہو، پھر وہ شخص آپ کے پاس آ جایا کرتا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیویاں درست نہیں سمجھتی تھیں کہ ایسی رضاعت (کبیر) کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، حتٰی کہ اسے جھولے (یعنی بچپن) میں دودھ پلایا جائے۔ نیز وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! ہم تو یہ سمجھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رخصت صرف سالم کے لیے دی تھی، باقی لوگوں کے لیے نہیں۔
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَالَ : " انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمُجَاعَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا: یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ فرمایا: پہچان لیں کہ آپ کے بھائی کون ہیں، رضاعت تب ثابت ہوتی ہے جب دودھ ہی بچے کی غذا ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ ، قَالَتْ : جَاءَ عَمِّي بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ، قُلْتُ : إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، قَالَ : " تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرا (رضاعی) چچا آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگا۔ میں نے اسے اجازت نہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو میں نے آپ سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو، وہ تمہارا چچا ہی ہے۔ عرض کیا: دودھ تو مجھے عورت نے پلایا ہے، مرد نے تو نہیں پلایا۔ فرمایا: تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو! اسے اجازت دے دو، وہ تمہارا چچا ہے۔
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ح وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتُ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (شادی کے لیے) سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَهُمَا مُحْرِمَانِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لِيَحْضُرَهُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَجِّ ، فَقَالَ أَبَانُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يُنْكِحُ ، وَلا يَخْطُبُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبیہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے کرانا چاہی، جب کہ وہ دونوں محرم تھے۔ انہوں نے ابان بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھی شرکت کے لیے پیغام بھیجا جو امیر حج تھے۔ ابان رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا اور کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی اور کا نکاح کروا سکتا ہے اور نہ ہی منگنی کروا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ وَنَحْنُ حَلالانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر مجھ سے نکاح کیا اور ہم دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " فَأَخْبَرْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ وَهِيَ خَالَتُهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلالٌ وَهِيَ حَلالٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے یہ بات امام زہری رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا، تو وہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں احرام میں نہیں تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا یزید بن اصم کی خالہ ہیں۔
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد ، قَالَ : وَكَانَ الْحَسَنُ أَوْثَقَهُمَا ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ " ، وَكَانَ سُفْيَانُ ، يَقُولُ : كَانَ الْحَسَنُ خَيْرَهُمَا ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَحَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ : عَنْ أَبِيهُمَا ، سَمِعَ عَليًّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ المُتْعَةِ ، وَعَنْ لُحُم الحُمْر وَالأهْلِية .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
حسن اور عبداللہ اپنے والد محمد بن علی بن حنفیہ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے وقت نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ سفیان کہتے تھے: ان دونوں میں سے حسن زیادہ اچھے تھے۔ ابن مقری کہتے ہیں: ایک دفعہ سفیان نے ہمیں یہی روایت بیان کی، تو ذکر کیا کہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرما رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا ، قَالَ لَنَا : " اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ ، وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ ، قَالَ : فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَأَبَيْنَ إِلا أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا ، قَالَ : فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا ، قَالَ : فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِيَ بُرْدَةٌ ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي ، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي ، فَقَالَتْ : بُرْدٌ كَبُرْدٍ ، فَتَزَوَّجْتُهَا ، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا ، قَالَ : فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْباب قَائِمٌ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : يَأَيُّهَا النَّاسُ ، أَلا إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ ، أَلا فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا ، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ) کے لیے نکلے۔ جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے (متعہ) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ان دنوں ہمارے ہاں فائدہ اٹھانے کا طریقہ شادی تھا۔ چنانچہ ہم نے عورتوں کو شادی کی پیشکش کی، تو انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ ہم اپنے اور ان کے مابین مدت مقرر کریں۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدت مقرر کر لیں۔ راوی کہتے ہیں: میں اور میرے چچا زاد بھائی (متعہ کے لیے) نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی، لیکن میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس آئے اور اس کے سامنے اپنا مقصد پیش کیا، تو اسے میری جوانی پسند آئی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر پسند آئی۔ وہ کہنے لگی: چادریں تو ایک جیسی ہی ہیں۔ چنانچہ میں نے اس سے شادی کر لی اور ہمارے مابین دس دن کا معاہدہ طے پایا۔ میں نے وہ رات اس (عورت) کے ہاں گزاری اور اگلے دن صبح صبح مسجد چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم اور (بیت اللہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: لوگو! میں نے تمہیں ان عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی۔ سن لیں! اللہ نے قیامت کے دن تک اس (متعہ) کو حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت موجود ہو، وہ اسے آزاد کر دے اور جو کچھ بھی اسے دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند اس سے صحبت کر لے، تو اس (بیوی) کو مہر ملے گا، کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو جائز سمجھا ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کرنے لگیں (یعنی نکاح نہ کرنے دیں)، تو پھر جس کا باپ ولی نہ ہو، اس کی ولایت کا فیصلہ حاکم وقت کرے گا۔
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : ثنا قَبِيصَةُ ، قَالَ : ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔
حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَمْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ السَّنَدِيِّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْجَوْهَرِيُّ ، قَالا : ثنا أَبُو كَامِلٍ الْفَضْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " ، وَقَدْ وَصَلَهُ شَرِيكٌ أَيْضًا وَأَسْنَدَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔ شریک نے اس روایت کو موصول اور مرفوع بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ ، قَالَ : فَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً ، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِهَا ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى باب الْحُجْرَةِ فَكَرِهْتُهَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ ابْنَةُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الأَمْرِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَوَقَعَتْ فِي السَّهْمِ لِثَابِتٍ أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ ، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِي ، قَالَ : فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، وَخَرَجَ الْخَبَرُ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، فَقَالَ النَّاسُ : أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا الْمُصْطَلِقِ ، فَلَقَدْ أَعْتَقَ تَزْوِيجُهُ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلا نَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی حاصل کیے، تو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اپنی مکاتبت (یعنی آزادی کی قیمت مقرر) کر لی۔ وہ بہت خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا، وہ اس کے دل میں بس جاتیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے انہیں حجرے کے دروازے پر دیکھا، تو ناپسند کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں وہ خوبی (حسن) دیکھیں گے، جو میں دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں، جو اپنی قوم کے سردار ہیں۔ مجھ پر جو پریشانی آئی ہے، وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میں ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ اس سے بہتر کی خواہش رکھتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ (بہتر) کیا ہے؟ فرمایا: میں آپ کی کتابت کی رقم ادا کردوں گا اور آپ سے شادی کرلوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ کام کر دیا۔ لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے۔ لوگ کہنے لگے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال (بن گئے) ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے، جو ان کے قبضے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی نے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کو آزاد کرادیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کوئی عورت اپنی قوم کے لیے ان سے زیادہ بابرکت ٹھہری ہو۔
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَهُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ كَذَا : لا يُصَابُ أَحَدٌ بِمُصِيبَةٍ ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهَا ، فَقَالَتْ : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ ، فِيَّ خِلالٌ ثَلاثٌ أَخَافُهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةٌ الْغَيْرَةِ ، وَأَنَا امْرَأَةٌ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي أَحَدٌ يُزَوِّجُنِي ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَغَضِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ لِنَفْسِهِ حِينَ قَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فِي كَذَا وَكَذَا ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَتْ ، فَأَتَاهَا فَقَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ غَيْرَتِكِ فَأَدْعُوا اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِهَا عَنْكِ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ صِبْيَتِكِ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيهِمْ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ أَنْ لَيْسَ هَهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ يُزَوِّجُكِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلا غَائِبٌ يَكْرَهُنِي " فَقَالَتْ لابْنِهَا : زَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَوَّجَهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات (حدیث) سنی جو مجھے (اتنی زیادہ) دولت ملنے سے زیادہ پیاری ہے: جو بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔ الخ، انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگنی کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید ہو (یعنی آپ کا پیغام قبول ہے) مگر مجھ میں تین امور ہیں جن کی بنا پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کرنے سے ڈرتی ہوں: میں بہت زیادہ غیرت (غصے) والی عورت ہوں، میرا کوئی ولی نہیں جو میری شادی کروا دے، اور میں عیال دار عورت ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اتنے غصے میں آئے کہ اپنی ذات کے لیے بھی کبھی اتنے غصے میں نہ آئے تھے۔ ان (ام سلمہ) کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ نے جو غیرت (غصے) کا ذکر کیا ہے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے غصے کو دور کر دے۔ جو بچوں والی بات آپ نے ذکر کی ہے، تو انہیں اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا۔ اور آپ نے جو یہ بات کہی کہ میرا کوئی بھی ولی یہاں موجود نہیں جو میری آپ سے شادی کروا دے، تو آپ کے اولیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے ناپسند کرے گا، خواہ وہ یہاں موجود ہو یا غیر موجود۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (میری) شادی کروا دیں، تو انہوں نے آپ کی شادی کر دی۔
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، فَقَالَ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالا : ثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، قِيلَ : وَمَا إِذْنُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْ تَسْكُتَ " ، الْحَدِيثُ لِلدَّارِمِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایّم (جس کی دوسری شادی ہو رہی ہو) سے مشورہ کیے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے۔ آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس سے اجازت کس طرح لی جائے گی؟ فرمایا: یہ کہ وہ خاموش ہو جائے۔
حدیث نمبر: 708
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَأْذَنُوا " ، وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ : " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " ، قِيلَ : فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ ؟ قَالَ : " فَسُكَاتُهَا إِذْنُهَا " ، وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ : تَسْتَحْيِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهُوَ إِذْنُهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے جسموں (شادی) کے متعلق اجازت یا مشورہ لیا کریں۔ پوچھا گیا: کنواری لڑکی تو شرم کے مارے چپ کر جاتی ہے؟ فرمایا: اس کی خاموشی اجازت ہی ہے۔ مخرمی کی روایت میں ہے: وہ شرماتی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اس کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی خواہش کے متعلق مشورہ لیا جائے گا اور اس کا خاموشی اختیار کرنا اقرار سمجھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ نَافِعٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد بن جارية الأنصاري ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ خنساء بنت خدام انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ثیّب تھیں، ان کے والد نے ان کی پسند کے خلاف نکاح کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، تو میں چھ برس کی تھی اور جب مجھ سے مباشرت کی، تو اس وقت میں نو برس کی تھی۔
…