حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ پھلوں میں دو سال اور تین سال کے لیے ادھار بیع کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں میں باپ اور مدت مقرر کر کے بیع سلم (ادھار) کر لیا کریں۔“
حدیث نمبر: 615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي سَنَتَيْنِ وَثَلاثٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ پھلوں میں دو سال اور تین سال کے لیے بیع سلم (ادھار) کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں میں ماپ اور وزن مقرر کر کے بیع سلم کر لیا کریں۔“
حدیث نمبر: 616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، قَالَ : امْتَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " كُنَّا نُسْلِمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مثل ذَلِكَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن ابی مجالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ کا بیع سلم (کے جواز) میں اختلاف ہو گیا، انہوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس (پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم، جو، منقیٰ، اور کھجور کی بیع سلم ان لوگوں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جن کے پاس یہ چیزیں موجود نہیں ہوتی تھیں۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ سے پوچھا، تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔