حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیع غرر) دھوکے کی بیع اور (بیع حصاة) کنکری والی بیع سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ : أنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کی بیع سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ ، فَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ : فَالْمُلامَسَةُ ، وَالْمُنَابَذَةُ ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ : فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ ، وَالاحْتِبَاءُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع، ملامسہ اور منابذہ، سے منع فرمایا ہے اور دو طرح کے لباس، اشتمال صماء اور ایک کپڑے سے اس طرح گوٹ مارنے سے منع کیا ہے کہ شرمگاہ پر کپڑا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَبَايَعُوا بِإِلْقَاءِ الْحَصَى ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَبَايَعُوا بِالْمُلامَسَةِ ، وَمَنِ اشْتَرَى مِنْكُمْ مُحَفَّلَةً فَكَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکری پھینک کر بیع (سودا) نہ کریں، دھوکہ نہ دیں (یعنی دھوکہ دینے کے لیے قیمت نہ بڑھائیں) اور بیع ملامسہ (محض چھو کر بیع) نہ کریں۔ جو شخص ایسا جانور خریدے جس کا دودھ (دھوکہ دینے کے لیے) روکا گیا ہو اور وہ اسے ناپسند کرتا ہے، تو اسے واپس کر دے اور ساتھ غلے کا ایک صاع بھی دے۔“
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ ، يَقُولُ : لا تَبِيعُوا الْمَاءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ " ، لا أَدْرِي أَيَّ مَاءٍ هُوَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : أَخْبَرَهُ أَبُو الْمِنْهَالِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پانی نہ بیچا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی بیچنے سے منع فرما رہے تھے، معلوم نہیں کہ کون سا پانی مراد ہے؟ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ’مسمع‘ کی جگہ ’اخبرہ‘ کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : " وَثَلاثٌ لا يُمْنَعُهُنَّ : الْمَاءُ ، وَالْكَلأُ ، وَالنَّارُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس (کی پیداوار) روکنے کے لیے زائد پانی نہ روکا جائے۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”پانی، گھاس، اور آگ، تین چیزوں سے (کسی کو) نہ روکا جائے۔“
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالا : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ " ، وَقَالَ الآخَرُ : " بَيْعِ السِّنِينَ ، وَعَنِ الثُّنْيَا ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، اور معاومہ (کئی سالوں کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔ ایک راوی کے الفاظ ہیں: ”کئی سالوں کی بیع اور دنیاوی (بیع) سے منع فرمایا ہے، البتہ عرایا (اندازہ کرنے) کی رخصت دی ہے۔“
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيٍ فَاتَّبِعْهُ وَلا تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کی طرف سے (قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، جب آپ کو (قرض لینے کے لیے) کسی مالدار کے حوالے کیا جائے، تو قبول کیجیے اور ایک بیع میں دو سودے مت کیجیے۔“
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : ثني أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْ ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض اور بیع جائز نہیں، نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں، جس چیز کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں، جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں اس کی بیع بھی جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : ثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى هُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : ثني يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي بُيُوعًا ، فَمَا يَحِلُّ مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، " إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ " ، وَهَكَذَا قَالَ شَيْبَانُ ، وَهَمَّامٌ : عَنْ يَحْيَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنْ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا حَبَّانُ ، قَالَ : ثنا هَمَّامٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کئی طرح کے سامان خریدتا ہوں، ان میں سے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟“ فرمایا: ”بھتیجے! جب آپ کوئی سامان خریدیں تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے مت بیچنا۔“ اس کی اور بھی سندیں ہیں، جن میں لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ : ثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَصْلُحُ بَيْعُ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ ، قَالُوا : وَمَا صَلاحُهُ ؟ قَالَ : تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکنے سے پہلے کھجوروں کو بیچنا جائز نہیں۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ”پکنے کی علامت کیا ہے؟“ فرمایا: ”سرخ یا زرد ہو جانا۔“
حدیث نمبر: 605
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، قَالَ : ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ ، نَهَى الْبَايِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے (سرخ ہونے) سے پہلے کھجوریں بیچنے سے منع فرمایا ہے اور سفید ہونے سے پہلے بالیاں (گندم) بیچنے سے منع فرمایا ہے، حتیٰ کہ وہ آفات سے محفوظ ہو جائیں۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَلا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو قبضہ میں لیے بغیر (آگے) بیچنے سے منع کیا ہے، وہ غلہ ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم قافلے والوں سے غلے کا ڈھیر (اندازہ سے) خرید لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا کہ ہم اس کی جگہ سے منتقل کیے بغیر اسے فروخت نہ کریں۔
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ ، لَمْ يُعْلَمْ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایسا ڈھیر بیچنے سے منع فرمایا، جس کا معین ماپ معلوم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا شِهَابٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ ، قَالَ : ثنا دَاودُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ الْحَيَوَانُ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : ثنا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةِ الْكَلْبِيِّ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سات آدمیوں کے عوض (سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سے) خرید لیا۔
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کالے (حبشی) غلاموں کے بدلے ایک غلام خریدا۔