حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا عُقْبَةُ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : ثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ " ، الْحَدِيثُ لِلأَشَجِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی پلانے کی غرض سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ یہ الفاظ الاشج کی روایت کے ہیں۔
حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ، ثُمَّ أَتَمَّهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوری (چار رکعت) نماز پڑھنا شروع کی۔
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى اللَّيَالِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے آخر میں جب ظہر کی نماز پڑھ لی، تو طوافِ افاضہ کیا، پھر منیٰ واپس آئے اور ایامِ تشریق کی راتیں وہیں گزاریں۔ جب سورج ڈھل جاتا، تو آپ ہر جمرہ پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ آپ جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ پر لمبا قیام کرتے اور عاجزی و تضرع کرتے، پھر تیسرے جمرہ پر کنکریاں مارتے اور وہاں قیام نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں محصب میں ادا کیں، پھر کچھ دیر آرام کیا، پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف گئے اور طواف کیا۔
حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ الأَزْرَقِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ : بِمِنًى ، قُلْتُ : فَأَيْنَ الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ : بِالأَبْطَحِ ، ثُمَّ قَالَ : فَعَلَ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے وہ بات بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی، کہ آپ نے یوم الترویہ (8 ذوالحجہ) کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی؟ انہوں نے فرمایا: منیٰ میں۔ میں نے کہا: یوم النفر کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی؟ فرمایا: ابطح میں۔ پھر فرمایا: تم بھی وہی کرو جو تمہارے امراء کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ الأَحْوَلُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ مناسکِ حج کے بعد مختلف راستوں سے چلے جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کوئی بھی بیت اللہ کا طوافِ وداع کیے بغیر نہ جائے۔»
حدیث نمبر: 496
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَحَابِسَتُنَا هِيَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ ، قَالَ : فَلا إِذًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ طوافِ افاضہ کے بعد سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی، تو آپ نے فرمایا: «کیا وہ ہمیں (یہاں) روکے گی؟» میں نے کہا: وہ طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہوئی ہیں۔ آپ نے فرمایا: «پھر کوئی حرج نہیں۔»
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، زَادَ ابْنُ خَشْرَمٍ وَابْنُ هَاشِمٍ : غَدَاةَ النَّحْرِ ، قَالُوا : وَالْفَضْلُ رَدِيفُهُ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ ، أَدْرَكَتْ أَبِي وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ ، فَهَلْ تَرَى أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (ابن خشرم اور ابن ہاشم کی روایت میں اضافہ ہے کہ یہ یوم النحر کی صبح تھی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے): اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض کیا، وہ میرے بوڑھے باپ پر بھی فرض ہوا، لیکن وہ سواری پر ٹھہر نہیں سکتے، کیا ان کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: «ہاں۔»
حدیث نمبر: 498
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ فُلانًا الْجُهَنِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ أَوْ قَالَ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ ؟ قَالَ : " فَحُجَّ عَنْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جہنی قبیلے کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرا بوڑھا باپ حج کیے بغیر فوت ہو گیا، یا یوں کہا کہ وہ حج کی استطاعت نہیں رکھتا، (کیا اس کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے؟) آپ نے فرمایا: «اس کی طرف سے حج کر لو۔»
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزرةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ، قَالَ : مَنْ شُبْرُمَةُ ؟ قَالَ : أَخٌ لِي أَوْ قَرَابَةٌ لِي ، قَالَ : هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ ثُمَّ لَبِّ عَنْ شُبْرُمَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لبیک عن شبرمہ» کہتے سنا، آپ نے پوچھا: «شبرمہ کون ہے؟» اس نے کہا: میرا بھائی یا رشتہ دار ہے۔ آپ نے فرمایا: «کیا تم نے کبھی حج کیا؟» اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: «یہ حج اپنی طرف سے کر لو، پھر شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہو (یعنی حج کرو)۔»
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا ، عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالا : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، زَادَ ابْنُ هَاشِمٍ : وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلا الظَّعْنَ ؟ قَالَ : " حُجَّ عَنْ أَبِيكِ وَاعْتَمِرْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: میرے والد بوڑھے ہیں، وہ حج، عمرہ اور سفر کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آپ نے فرمایا: «اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔»
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ ؟ فَقَالَ : لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی اور وہ فوت ہو گئی۔ آپ نے پوچھا: «اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟» اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: «تو اللہ کا حق ادا کرو، کیونکہ وہ ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔»
حدیث نمبر: 502
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةَ ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ يُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے، اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان کے گناہوں کو مٹاتا ہے۔»
حدیث نمبر: 503
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، بِنَحْوِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن مقری سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا : مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ ؟ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ لِي نَاضِحَانِ ، فَرَكِبَ أَبُو فُلانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنُهَا نَاضِحًا ، وَتَرَكَ نَاضِحًا يَنْضَحُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فَإِنَّ عَمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً " ، أَوْ قَالَ بِحَجَّةٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت (ام سنان) سے فرمایا: (سیدنا عبداللہ بن عباس نے اس کا نام بتایا تھا، لیکن میں بھول گیا) «اس سال ہمارے ساتھ حج کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی تھی؟» اس نے کہا: یا نبی اللہ! میرے پاس دو اونٹ تھے، ایک پر میرا خاوند اور اس کا بیٹا سوار ہو کر چلے گئے، اور دوسرا پانی لانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لینا، کیونکہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔»
حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، فِيمَا حَدَّثَنَا مِنَ الْمَغَازِي ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ ، وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ ، أَتَاهُ عَيْنَهُ الْخُزَاعِيُّ ، فَقَالَ : إِنَّنِي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشِيرُوا عَلَيَّ ، فَذَكَرَ ابْنُ يَحْيَى الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صَدِّ الْمُشْرِكِينَ إِيَّاهُمْ عَنِ الْبَيْتِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْقَضِيَّةِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : " قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا " ، وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال تیرہ سو سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے، تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، اور بنو خزاعہ کے ایک شخص کو جاسوس بنا کر آگے بھیجا تاکہ وہ قریش کے حالات کی خبر دے۔ آپ عسفان کے قریب غدیر اشطاط پر پہنچے، تو خزاعی جاسوس نے آ کر بتایا کہ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی نے آپ کے خلاف احابیش اور دیگر جماعتیں اکٹھی کر لی ہیں، وہ آپ سے لڑیں گے اور بیت اللہ سے روکیں گے۔ آپ نے فرمایا: «مجھے مشورہ دو۔» ابن یحییٰ نے مشرکوں کے بیت اللہ سے روکنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور آخر میں کہا کہ فیصلے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: «اٹھو، قربانیاں کر دو اور سر منڈوا لو۔» انہوں نے باقی حدیث بھی بیان کی۔
حدیث نمبر: 506
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّرَ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص احرام کی حالت میں اپنے اونٹ سے گرا اور گردن ٹوٹنے سے مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اس کی دونوں چادروں میں کفن دو، لیکن اس کا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔»
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، قَالَ : ثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِر ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " وَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْهِ وَيُغَسَّلَ ، وَلا يُغَطَّى وَجْهُهُ ، وَلا يَمَسَّ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص احرام کی حالت میں تھا، اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اس کی دونوں چادروں میں کفن دیا جائے، غسل دیا جائے، لیکن اس کا چہرہ نہ ڈھانپا جائے اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے، کیونکہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : ثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : ثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : ثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : ثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَتَلَتْ هُذَيْلٌ رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلا يُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ وَإِمَّا أَنْ يُفَادَى ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لأَبِي شَاةٍ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا الإِذْخَرَ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلا الإِذْخَرَ إِلا الإِذْخَرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا، تو بنو ہذیل نے جاہلیت کے ایک مقتول کے بدلے بنو لیث کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا: «اللہ تعالیٰ نے مکہ میں قتال منع کر دیا ہے اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر مسلط کیا۔ یہ میرے سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کی گئی۔ اس وقت یہ حرم ہے، اس کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں گے، نہ اس کی گم شدہ چیز اٹھائی جائے گی سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی قتل کر دیا جائے، وہ دو چیزوں میں سے بہتر اختیار کر سکتا ہے: یا تو قصاص لے یا دیت قبول کرے۔» اس پر یمن کا ایک شخص ابو شاہ کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! یہ میرے لیے لکھ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔» پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر گھاس کو مستثنیٰ کر دیں، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: «اذخر مستثنیٰ ہے، اذخر مستثنیٰ ہے۔»
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : ثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي ، وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهَا إِلا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، لا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلا يُخْتَلَى خَلاهُ ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہ شہر (مکہ) حرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن حرم بنایا جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ میرے علاوہ کسی کے لیے اس میں قتال جائز نہیں تھا، اور میرے بعد بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کیا گیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں، نہ اس کی گھاس توڑی جائے، اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے۔»
حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ " ، قَالَ مَالِكٌ : حَرَمُ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ فِي بَرِيدٍ ، وَاللابَتَانِ مِنَ الشَّجَرِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرن دیکھوں، تو انہیں نہ چھیڑوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔» امام مالک کہتے ہیں: مدینہ کا حرم چاروں طرف ایک ایک برید (بارہ بارہ میل) ہے۔ لابتان سے مراد دو پتھریلے میدان (حرتان) ہیں۔
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیانی علاقے کو حرم قرار دیا، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے۔
حدیث نمبر: 512
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مَحْمُودٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «(ثواب کی نیت سے) سفر صرف تین مساجد کے لیے کیا جائے: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ، اور میری یہ مسجد (مسجد نبوی)۔»