کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ، بَلْ حَجَّةٌ ، ثُمَّ مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَطَوَّعَ فَلْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ ، كَانَ كُلَّ عَامٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ (زندگی میں) ایک مرتبہ فرض ہے، پھر اس کے بعد جو نفلی حج کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ حج ہر سال فرض ہے، تو ہر سال فرض ہو جاتا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 410
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 92/1، 103، 323، مسند الطيالسي: 2269، سنن الدارقطني: 281/2، صحیح مسلم (1337) وغیرہ میں اس کے شواہد بھی ہیں، سماک بن حرب کی روایت عکرمہ سے ضعیف ہوتی ہے۔»
حدیث نمبر: 411
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَلَكَ أَجْرٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے محفہ (عورتوں کی سواری کی پالکی) سے اپنا بچہ نکال کر کہا: اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ فرمایا: جی ہاں! اور اجر آپ کو ملے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 411
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1336»
حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا " ، وَذُكِرَ لِي ، وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ وَقَّتَ لأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن کو میقات مقرر کیا اور میں نے سنا نہیں، بلکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 412
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1527، صحیح مسلم: 1182»
حدیث نمبر: 413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالا : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا " ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : قَرْنُ الْمَنَازِلِ ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : أَلَمْلَمَ ، قَالَ : " فَهُنَّ لأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ وَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ " ، قَالَ عَمْرٌو : فَمِنْ أَهْلِهِ ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ ، فَكَذَاكَ ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن منازل، اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔ عمرو کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اسلم کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میقات وہاں کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور دیگر علاقوں کے ان لوگوں کے لیے بھی، جو وہاں سے گزر کر آئیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں ان کا میقات ان کے گھر سے ہی شروع ہو گا حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 413
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1529، صحیح مسلم: 1181»
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور طواف (افاضہ) کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے بعد خوشبو لگائی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 414
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1539، صحیح مسلم: 1189»
حدیث نمبر: 415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ : أَنَا عُبَيْدَةُ ، قَالَ : أَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ (سر کے درمیان سے سینا) میں لگی ہوئی خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 415
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 271، صحیح مسلم: 1190»
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا نَادَى ، فَقَالَ " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : " لا يَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ ، وَلا الْقَمِيصَ ، وَلا البُرْنُسَ ، وَلا الْعِمَامَةَ ، وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ ، وَلا وَرْسٌ ، وَلْيُحْرِمْ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ ، وَرِدَاءٍ ، وَنَعْلَيْنِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا إِلَى الْعَقِبَيْنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بلند آواز میں پوچھا: یا رسول اللہ! محرم کون سے لباس سے اجتناب کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم شلوار، قمیص، ٹوپی (جو سر سے چپکی ہو) اور عمامہ نہیں پہن سکتا، نہ ہی وہ کپڑا جو زعفران یا ورس (ایک قسم کی گھاس جو رنگنے کے کام آتی ہے) سے رنگا گیا ہو۔ احرام میں تہبند، چادر اور جوتوں کا استعمال کیا جائے، اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزوں کو ایڑیوں کے نیچے تک کاٹ کر پہنا جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 416
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1842، صحیح مسلم: 1177»
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " ، فَلا أَدْرِي أَيَّ الْحَدِيثَيْنِ نَسَخَ الآخَرَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: شلوار اس کے لیے ہے جس کے پاس تہبند نہ ہو، اور موزے اس کے لیے ہیں جس کے پاس جوتے نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ ان دو روایات میں سے کون سی ناسخ ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 417
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 5404، صحیح مسلم: 1178»
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، فَإِذَا مَرَّ بِنَا الرَّكْبُ سَدَلْنَا الثَّوْبَ مِنْ خَلْفِنَا عَلَى وجُوهِنَا ، وَلا يَجِيءُ بِهِ مِنْ هَهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلَ خَدَّيْهَا ، فَإِذَا جَاوَزُوا نَزَعْنَاهَا ، وَقَالَتْ : " تَلْبَسُ الْمُحْرِمَةُ مَا شَاءَتْ إِلا الْبُرْقُعَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ جب کوئی سوار ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم اپنا کپڑا پیچھے سے اپنے چہرے پر ڈال لیتی تھیں، اور وہ کپڑا گالوں کی طرف سے نہیں آتا تھا۔ جب وہ گزر جاتے تو ہم کپڑا ہٹا لیتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: محرمہ عورت جو چاہے پہن سکتی ہے سوائے برقع کے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 418
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 30/6، سنن أبي داود: 1833، سنن ابن ماجه: 2935، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2691) نے صحیح کہا ہے۔ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (454/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِلالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ ، أَفَأَشْتَرِطُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : كَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں حج کرنا چاہتی ہوں، کیا میں شرط رکھ سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے پوچھا: پھر میں کیا کہوں؟ فرمایا: یوں کہو: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي» (اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، جس جگہ تو مجھے روک لے، میں وہیں احرام کھول دوں گی)۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 419
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الإمام أحمد: 360/6، سنن أبي داود: 1776، سنن النسائي: 2767، سنن الترمذي: 941، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ (1208) نے بھی روایت کیا ہے۔»
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عِنْدَنَا مَحْفُوظٌ فِي قِصَّةِ ضُبَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، مُحْتَجٌّ بِهِ لِمَنْ أَرَادَ الشَّرْطَ فِي الْحَجِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے کہا: میں حج کرنا چاہتی ہوں اور بیمار ہوں، (اب کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: حج کرو اور شرط رکھو کہ میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو (اے اللہ) مجھے روک لے۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی یہ حدیث ہمارے نزدیک محفوظ ہے جو ضباعہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہے، اور جو شخص حج میں شرط رکھنا چاہے وہ اس سے دلیل لے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 420
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 5089، صحیح مسلم: 1207»
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 421
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1211/114»
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجتہ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے اور جب تک دونوں (حج اور عمرہ) سے فارغ نہ ہو، احرام نہ کھولے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1562، صحیح مسلم: 1211/113»
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَلا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلا يَتْرُكُهُ ، قَالَتْ : وَلا نَعْلَمُ الْحَاجُّ مَحِلُّهُ شَيْءٌ إِلا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کے قلادے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ عبدالرحمن بن القاسم کہتے ہیں: آپ نہ کسی چیز سے الگ ہوتے تھے اور نہ چھوڑتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نہیں جانتے کہ حاجی کے لیے طواف بیت اللہ کے علاوہ کوئی اور چیز احرام کھولنے کا باعث ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 423
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1321»
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَتَى بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا مِنْ جَانِبِ صَفْحَتِهَا الأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتِ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أَتَى بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ کی اونٹنی لائی گئی، آپ نے اس کی دائیں کوہان کو چیرا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتوں کا قلادہ ڈالا۔ پھر آپ کی سواری لائی گئی، آپ اس پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیداء کے مقام پر پہنچی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 424
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1243»
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ، فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ساتھ اٹھارہ قربانی کے اونٹ بھیجے اور اسے ان کے متعلق احکامات دیے۔ اس نے واپس آ کر پوچھا: اگر ان میں سے کوئی کمزور ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے ذبح کر دو، پھر اس کے قلادے کو اس کے خون سے رنگ کر اس کے پہلو پر لگا دو، اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارے رفقاء میں سے کوئی کھائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 425
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1325»
حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلادے والی بکری قربانی کے لیے (بیت اللہ کی طرف) بھیجی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 426
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1701، صحیح مسلم: 1321/367»
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَبْصَرَ رَجُلا وَمَعَهُ بَدَنَةٌ ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ أَوْ وَيْحَكَ ، ارْكَبْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس قربانی کی اونٹنی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ قربانی کی اونٹنی ہے۔ آپ نے فرمایا: افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 427
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 245/2، 264، مسند الحميدي: 1003، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4016) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا ، فَقَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، وَيْلَكَ " فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کی اونٹنی ہانک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا: یہ قربانی کی اونٹنی ہے۔ آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا: افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 428
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1689، صحیح مسلم: 1322»
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : ثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبُدْنِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے قربانی کی اونٹنی پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اسے احسن طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، یہاں تک کہ کوئی اور سواری مل جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 429
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1324»
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُلَبِّي : لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے سنا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 430
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1251»
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : ثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ، فَقَالَ : وَهَلَ أَنَسٌ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ انہوں نے فرمایا: انس پر اللہ رحم کرے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج کا احرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 431
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 4353، صحیح مسلم: 1322»
حدیث نمبر: 432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ لِي : أَحَجَجْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَيْفَ صَنَعْتَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِإِهْلالٍ كَإِهْلالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحَلَّ " ، قَالَ : فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ بطحاء میں (حج کے لیے جاتے ہوئے) اترے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تم نے کیسا احرام باندھا؟ میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا۔ آپ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، جا کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرو، پھر احرام کھول دو۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 432
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1559، صحیح مسلم: 1221»
حدیث نمبر: 433
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ " , قَالَ : وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلبیہ یہ تھی: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» (اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ہر قسم کی بادشاہی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی تلبیہ میں یہ اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں حاضر ہوں، تیری اطاعت میں سعادت ہے، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں، تو ہی مطلوب ہے اور تمام عمل تیری طرف پلٹتے ہیں)۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 433
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1549، صحیح مسلم: 1184»
حدیث نمبر: 434
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، يُخْبِرُ عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ رضيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَقَالَ مَرَّةً : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مَرَّةً : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ أَوْ بِالتَّلْبِيَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو کہوں کہ وہ احرام باندھتے وقت یا تلبیہ پڑھتے وقت اپنی آواز بلند کریں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 434
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 55/4، 56، سنن أبي داود: 1814، سنن النسائي: 2754، سنن الترمذي: 829، سنن ابن ماجه: 2922، امام ابن حبان رحمہ اللہ (3802) اور امام حاکم رحمہ اللہ (450/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ ، فَرَكِبَ فَرَسًا فَصَرَعَ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ ، وَأَبَى أَصْحَابُهُ أَنْ يَأْكُلُوا وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَشَرْتُمْ ، أَوْ قَتَلْتُمْ ، أَوْ أَصَدْتُمْ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِهِ كُلُوهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند محرم صحابہ کے ساتھ تھے، جبکہ وہ خود حالت احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر ایک جنگلی گدھے کو مار گرایا اور اس کا گوشت کھایا، مگر ان کے ساتھیوں نے کھانے سے انکار کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے اشارہ کیا، قتل کیا یا شکار کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، اسے کھاؤ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 435
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1824، صحیح مسلم: 1196»
حدیث نمبر: 436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ح وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَاللَّيْثُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إِنَّمَا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلا أَنَّا حُرُمٌ " ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا : لَحْمُ حِمَارٍ ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : عَجُزُ حِمَارٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت تحفہ بھیجا جب آپ ابواء یا ودان میں تھے۔ آپ نے اسے واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے میرے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے تو فرمایا: ہم نے تمہارا ہدیہ صرف اس لیے واپس کیا کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ ابن عیینہ کی روایت میں «لَحْمُ حِمَارٍ» اور سعید بن جبیر کی روایت میں «عَجُزُ حِمَارٍ» کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 436
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1825، صحیح مسلم: 1193»
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، أَخْبَرَهُمَا ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خشکی کا وہ شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تم محرم ہو، بشرطیکہ تم نے اسے شکار نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 437
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 362/3، سنن أبي داود: 1851، سنن النسائي: 2830، سنن الترمذي: 846، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2641) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3971) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أبي عَمَّارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ الضَّبُعِ ، فَقَالَ : " كُلْهَا ، قَالَ : قُلْتُ : آكُلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كُلْهَا بِأَمْرِي ، قُلْتُ : صَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبدالرحمن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجھو (ایک قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا میں اسے کھاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 438
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 297/3، 318، 322، سنن أبي داود: 3801، سنن النسائي: 2839، سنن الترمذي: 851، سنن ابن ماجه: 3236، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2626) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3965) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنُ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الضَّبُعِ ، قَالَ : " هِيَ صَيْدٌ وَفِيهَا كَبْشٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بجھو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور (حالت احرام میں) اس کا شکار کرنے والے پر ایک مینڈھا (فدیہ) ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 439
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: انظر الحديث السابق»
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَابْنُ هَاشِمٍ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ ، وَقَالَ ابْنُ هَاشِمٍ : فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : " الْفَأْرَةُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں، خواہ قتل کرنے والا حرم میں ہو یا حالت احرام میں: (1) چوہیا، (2) چیل، (3) کوا، (4) بچھو، (5) کاٹنے والا کتا۔ ابن ہاشم کی روایت میں "حل اور حرم" کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 440
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1828، صحیح مسلم: 1199»
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ وَهُمَا بِالْعَرْجِ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ فَسَلَّمْتُ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ ، فَقُلْتُ : أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ هَكَذَا ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا ، قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ مقام عرج پر سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان محرم کے سر دھونے پر اختلاف ہوا، تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس آیا تو انہیں کنویں پر گاڑی ہوئی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے اپنا کپڑا سینے تک لپیٹ لیا۔ میں نے کہا: مجھے آپ کے بھتیجے نے یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں سر کیسے دھوتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح سر دھوتے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سر پر آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لاتے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 441
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1840، صحیح مسلم: 1205»
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 442
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1835، صحیح مسلم: 1202»
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَبِيهٍ ، قَالَ : " اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ ، فَلَمَّا أَتَى الرَّوْحَاءَ اشْتَدَّ بِهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ فَأَرْسَلَ أَبَانُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يُضَمِّدَهُمَا بِالصَّبِرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبیہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی۔ جب وہ مقام روحاء پر پہنچے تو تکلیف بڑھ گئی۔ انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس پیغام بھیجا، تو ابان نے جواب دیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں آنکھوں پر ایلوویرا (صبر) کی پٹی باندھو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 443
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1204»
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ وَلا يَخْطُبُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کا نکاح کروا سکتا ہے، اور نہ ہی منگنی کا پیغام بھیج سکتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 444
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1409»
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ وَنَحْنُ حَلالانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر مجھ سے نکاح کیا اور ہم دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 445
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1411»
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، وَالْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ " فَأَخْبَرْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ وَهِيَ خَالَتُهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلالٌ وَهِيَ حَلالٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے یہ بات زہری کو بتائی، تو انہوں نے کہا: یزید بن اصم نے مجھے بتایا، جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ اور سیدہ میمونہ دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 446
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1837، صحیح مسلم: 1410»
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ أَنْ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ ظُلِّلَ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ ، فَجَاءَهُ الْوَحْي فَأَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ ، قَالَ : فَجَاءَ يَعْلَى ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْتَزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے دیکھ سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، آپ کے ساتھ چند صحابہ بشمول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ایک شخص آیا جس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو خوشبو لگانے کے بعد عمرہ کا احرام باندھ لے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف لمحہ بھر دیکھا اور خاموش رہے۔ پھر آپ پر وحی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ بن امیہ کو ہاتھ سے آنے کا اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (کپڑے کے اندر) داخل کیا، تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور آپ خراٹے لے رہے تھے۔ پھر وحی کی کیفیت دور ہوئی، تو آپ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشبو کو تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبہ اتار دو، پھر عمرہ میں وہی کرو جو تم حج میں کرتے ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 447
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : كَانَ عَطَاءٌ يَأْخُذُ بِشَأْنِ صَاحِبِ الْجُبَّةِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَالآخِرُ فَالآخِرُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ ، وَكَانَ مِنْ شَأْنِ صَاحِبِ الْجُبَّةِ ، أَنَّ عَطَاءً ، أَخْبَرَنِي أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ نَحْوَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح جبہ والے شخص کے واقعہ کو حجتہ الوداع سے پہلے کا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل زیادہ درست ہے۔ عطاء نے مجھے بتایا کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے انہیں بتایا کہ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بھی اسی کے قائل تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 448
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذِهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ وَأَغْسِلُ هَذَا الْخَلُوقَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جعرانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا جس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے خلوق (خوشبو) لگائی ہوئی تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور یہ چیزیں (جبہ اور خوشبو) مجھ پر ہیں، تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: میں یہ جبہ اتار دیتا ہوں اور خوشبو دھو ڈالتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: جو تم حج میں کرتے ہو، وہی عمرہ میں کرو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 449
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»