کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا : ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ ، قَالَ : إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ ؟ قَالُوا : مِنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : فَمَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ إِتْيَانَكَ إِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ ، قَالَ : " فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : قَالَ : أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ، قَالَ : تَدْرُونَ مَا الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمْسَ ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ ، وَرُبَّمَا قَالَ : وَالْمُقَيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ ، وَقَالَ : احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے؟ انہوں نے کہا: ہم ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وفد یا قوم کو مرحبا، نہ ذلیل ہونے والے اور نہ شرمندہ ہونے والے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ نہیں آ سکتے کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ ہے۔ ہمیں کوئی قطعی بات بتائیں جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں۔ انہوں نے مشروبات کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) دینا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سبز لاکھی مرتبان، کدو کے برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتن، اور روغنی برتن کے استعمال سے منع کیا اور فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بتاؤ۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 53، صحیح مسلم: 17»
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْنٍ ، يَقُولُ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُنْكِرُ أَنْ يَتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلالُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَمْ تَرَوُوا الْهِلالَ فَاسْتَكْمِلُوا ثَلاثِينَ لَيْلَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
محمد بن حنین کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ رمضان کا چاند دکھائی دینے سے پہلے کوئی روزہ رکھے۔ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس راتیں پوری کر لو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 375
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد: مسند الإمام أحمد: 367/1، سنن النسائي: 2127، محمد بن حنین مجہول الحال ہے۔»
حدیث نمبر: 376
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَّ شُعْبَةُ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (شعبہ کو شک ہے): چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس دن گن لو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 376
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1909، صحیح مسلم: 1081»
حدیث نمبر: 377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : بُعِثْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا خَفِيَ الْهِلالُ ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ فُلانًا يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ ، بَعَثَنِي إِلَيْكِ أَسْأَلُكُ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَعَنِ الْوِصَالِ ، وَعَنِ الصِّيَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : قَالَتْ : " وَكَانَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاثِينَ ثُمَّ صَامَ " تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تاکہ میں ان سے رمضان کے چاند کے چھپ جانے کی صورت میں روزہ رکھنے، عصر کے بعد نفل نماز، اور وصال کے بارے میں پوچھوں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: فلاں آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور مجھے آپ سے عصر کے بعد نفل نماز، وصال، اور رمضان کے روزوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ایام کی دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے۔ اگر چاند نظر نہ آتا تو شعبان کے تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 377
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 149/6، سنن أبي داود: 2325، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1910) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3444) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (423/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (سنن الدارقطنی: 157/2) نے اس کی سند کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔»
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا لا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، سوائے اس شخص کے جو معمول کے مطابق روزہ رکھتا ہو، وہ اسے رکھ لے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 378
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1914، صحیح مسلم: 1082»
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا بِلال ، نَادِ فِي النَّاسِ ، فَلْيَصُمُوا غَدًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 379
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2340، سنن النسائي: 2115، سنن الترمذي: 691، سنن ابن ماجه: 1652، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1923) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3446) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (297/1) فرماتے ہیں: ہذا حدیث صحیح الاسناد متداول بین الفقہاء، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف اور مضطرب ہوتی ہے (تقریب التہذیب: 2624)۔»
حدیث نمبر: 380
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الذُّهْلِيُّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا بِلالُ نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 380
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: انظر الحديث السابق.»
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا أَوْ يُطْعِمَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 ، وَثَبَتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ ، وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو، جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے تھے، اجازت دی گئی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو روزہ نہ رکھیں اور ہر روز کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور ان پر قضا لازم نہ ہو۔ پھر یہ حکم آیت ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقرة: 185) سے منسوخ ہو گیا۔ اب یہ اجازت صرف ان بوڑھے مرد اور عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے اگر انہیں اپنے بچے کا خطرہ ہو، تو وہ روزہ نہ رکھیں اور ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 381
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2318، السنن الكبرى للبيهقي: 230/4، قتادہ مدلس ہیں جو کہ لفظ "عن" سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔»
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلالٍ مِنْ سُحُورِكُمْ ، فَإِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَلَيْسَ مَا يَكُونُ هَكَذَا وَلا هَكَذَا حَتَّى يَكُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي الْفَجْرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ اذان اس لیے دیتے ہیں تاکہ سوئے ہوئے کو جگائیں اور قیام کرنے والا واپس آ جائے۔ فجر وہ نہیں جو اوپر سے نیچے ہو، بلکہ وہ ہے جو دائیں بائیں پھیلتی ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 382
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 621، صحیح مسلم: 1093»
حدیث نمبر: 383
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 383
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1923، صحیح مسلم: 1095»
حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ، فَقَالَ : خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ، فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، قَالَ : خُذْ هَذَا وَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمَعْمَرٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَعُقَيْلٌ ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي ، أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً ؟ أَوْ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى ، وَقَالَ مَالِكٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ : " إِنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامٍ أَوْ إِطْعَامٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان (روزے کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں سے بھرا ایک بڑا ٹوکرا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: کیا ہم سے زیادہ محتاج گھرانے پر صدقہ کروں؟ مدینہ کے دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے ڈاڑھ نظر آ گئے اور فرمایا: اسے لے جاؤ اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1936، صحیح مسلم: 1111»
حدیث نمبر: 385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے روزے کی حالت میں خود بخود قے آ جائے، اس پر قضا لازم نہیں، اور جو قصداً قے کرے، اس پر قضا لازم ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 385
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 498/2، سنن أبي داود: 2380، سنن الترمذي: 720، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1961، 1990) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3518) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (426/1، 427) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ہشام بن حسان کی محمد بن سیرین سے روایت سماع پر محمول ہے۔»
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي بِالْبَقِيعِ فِي رَمَضَانَ إِذَا رَجُلٌ يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص پچھنا لگوا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 386
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 277/5، 280، 282، 283، سنن أبي داود: 2367، سنن ابن ماجه: 1680، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1963) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3532) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (427/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 387
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَحْتَجِمُ لَيْلا ، فَقُلْتُ : لَوْلا كَانَ هَذَا نَهَارًا ، فَقَالَ : أَتَأْمُرُنِي أَنْ أُهَرِيقَ دَمِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو رافع کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ رات کو پچھنا لگوا رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ نے دن میں کیوں نہ لگوایا؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں روزے کی حالت میں اپنا خون بہاؤں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 387
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: السنن الكبرى للنسائي: 3208، شرح معاني الآثار للطحاوي: 98/2، السنن الكبرى للبيهقي: 266/4، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (430/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ مدلس اور مختلط ہیں۔»
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَهُوَ فِي سَفَرٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاحہ کے مقام پر روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ ابو محمد کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح: له شواهد كثيرة، صحيح البخاري: 1835 وغيره، مسند الإمام أحمد: 444/1، حکم بن حبیہ نے مقسم سے یہ حدیث نہیں سنی، اس کی متابعت یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 389
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلاسِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھول کر کھا لیا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 389
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 6669»
حدیث نمبر: 390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی روزہ رکھے اور بھول کر کھا پی لے، وہ اپنا روزہ مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 390
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح: قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، صحیح بخاری (1933) اور صحیح مسلم (1155) کی حدیث اس سے مستغنی کر دیتی ہے۔»
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور جسم کے ساتھ جسم بھی ملا لیتے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تمہاری نسبت زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 391
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1106»
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تو آپ غقل کر کے روزہ رکھ لیتے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 392
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1925، صحیح مسلم: 1109/76»
حدیث نمبر: 393
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات آ جائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے، تو افطار کا وقت ہو گیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 393
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1954، صحیح مسلم: 1100»
حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوِصَالِ " فَقِيلَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال (افطاری کیے بغیر پہلے روزے کو جاری رکھنا) سے منع فرمایا۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے رات کو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 394
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1922، صحیح مسلم: 1102»
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاثِينَ يَوْمًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چاند نظر آئے، تو روزہ رکھو اور جب چاند نظر آئے، تو روزہ چھوڑ دو، اگر مطلع ابر آلود ہو، تو تیس دن روزے رکھو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 395
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1081»
حدیث نمبر: 396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا تَمَامَ الثَّلاثِينَ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلا الْهِلالَ بِالأَمْسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ : " فَأَفْطِرُوا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے مروی ہے کہ لوگوں (صحابہ) نے تیسواں روزہ رکھا، دو اعرابیوں نے آکر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، تو انہوں نے روزہ افطار کر دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 396
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 314/5، سنن أبي داود: 2339، السنن الكبرى للبيهقي: 248/4، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہذا اسناد حسن ثابت (سنن الدارقطنی: 169/2)۔»
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَأَلَ حَمْزَةُ الأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران سفر روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، فرمایا: مرضی ہے، روزہ رکھنا چاہیں تو رکھ لیں، چھوڑنا چاہیں تو چھوڑ دیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 397
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1943، صحیح مسلم: 1121»
حدیث نمبر: 398
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَامَ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ " ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : قَوْلُهُ : وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ بَيَّنَ ذَلِكَ مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال (سفر میں) روزہ رکھا، جب کديد نامی جگہ پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہی قابل حجت ہوتا ہے۔ ابو محمد کہتے ہیں: معمر نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ زہری کا قول ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 398
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1944، صحیح مسلم: 1113»
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى رَجُلا عَلَيْهِ زِحَامٌ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : صَائِمٌ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے اور اس پر سایہ کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ پوچھی؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ روزہ دار ہے۔ فرمایا: یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1946، صحیح مسلم: 1115»
حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : ثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ " . " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا كَانَ يَصُومُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلا قَلِيلا ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلُّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم) بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑتیں، تو شعبان کا مہینہ آنے تک ان کی قضا نہ دے سکتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، اتنے کسی اور مہینے میں نہ رکھتے تھے، چند دن چھوڑ کر آپ شعبان کا پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے، بلکہ پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 400
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1950، صحیح مسلم: 1146»
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّم صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ، يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ ، وَأَمَّا الأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید پڑھی، تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں (عید الفطر اور عید الاضحی) میں روزہ رکھنا حرام قرار دیا ہے۔ سفیان کی ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ رہا عید الفطر کا دن، تو یہ روزوں سے افطار کا دن ہے اور عید الاضحی کے دن آپ اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 401
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1990، صحیح مسلم: 1137»
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ أُنَاسٌ ، ثُمَّ صَلَّى الثَّانِيَةَ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرَ مِنَ الأُولَى ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ امْتَلأَ الْمَسْجِدُ حَتَّى اغْتَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلاةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا زَالَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ أَمْرُهُمْ ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ماہ رمضان میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر دوسری رات آپ نے نماز پڑھی، تو اس رات پہلی رات سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے، تیسری یا چوتھی رات مسجد لوگوں سے کھچا کھچ بھر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہ لائے، لوگ آپ کو نماز کے لیے بلاتے رہے، مگر آپ ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ صبح ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گزشتہ رات لوگ آپ کا انتظار کرتے رہے (مگر آپ باہر تشریف نہیں لائے)، فرمایا: ان کا معاملہ مجھ پر پوشیدہ نہیں، لیکن مجھے اندیشہ تھا کہ یہ نماز ان پر فرض کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 402
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2012، صحیح مسلم: 761»
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنَ الشَّهْرِ شَيْئًا ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتَنَا هَذِهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَتْ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ " ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ ، قُلْتُ : " وَمَا الْفَلاحُ ؟ قَالَ : السَّحُورُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے اس مہینے ہمیں کوئی قیام (تراویح) نہیں کروایا حتی کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ایک تہائی رات تک نماز (تراویح) پڑھائی، پھر چوتھی (چوبیسویں) رات قیام نہیں کروایا، اگلی رات قیام کروایا حتی کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کاش آپ ساری رات نوافل پڑھاتے، فرمایا: جب کوئی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھٹی (چھبیسویں) رات قیام نہیں کروایا، بلکہ ساتویں (ستائیسویں) رات قیام کروایا، اپنے گھر والوں کو بھی پیغام بھیجا اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو آپ نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو گیا۔ (داود بن ابی ہند کہتے ہیں) میں نے (اپنے استاد سے) پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سحری کا کھانا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 403
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الإمام أحمد: 159/5، 163، سنن أبي داود: 1375، سنن النسائي: 1395، سنن الترمذي: 806، سنن ابن ماجه: 1327، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2206) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2547) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَقَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور جس نے ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کیا، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 404
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2014، صحیح مسلم: 760»
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کریں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 405
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2015، صحیح مسلم: 1165»
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، يَقُولُ : " لَوْلا سُفَهَاؤُكُمْ لَوَضَعْتُ يَدِي فِي أُذُنِي ثُمَّ نَادَيْتُ : أَلا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ قَبْلَهَا ثَلاثٌ وَبَعْدَهَا ثَلاثٌ " ، نَبَأُ مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر آپ میں کم فہم لوگ نہ ہوتے، تو میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر یہ آواز لگاتا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی آخری سات راتوں میں ہے، تین راتیں اس سے پہلے ہیں اور تین راتیں اس کے بعد ہیں۔ مجھے یہ خبر ایک سچے آدمی نے، یعنی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 406
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: زوائد مسند الإمام أحمد: 131/5، السنن الكبرى للنسائي: 11690، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2187) نے صحیح کہا ہے، یزید بن ابی سلیمان راوی "حسن الحدیث" ہے۔»
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے حتی کہ آپ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 407
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2026، صحیح مسلم: 1172»
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَكَانَ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ ، وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خِبَاءَهُمَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، قَالَ : " الْبِرَّ تَرَوْنَ ؟ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر پڑھنے کے بعد اعتکاف والی جگہ داخل ہو جاتے۔ آپ نے (ایک مرتبہ) رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ لگا دیا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا، تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا، تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کے خیمے دیکھے، تو حکم دیا اور ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی، تو فرمایا: کیا آپ اسے نیکی سمجھ رہی ہیں؟ چنانچہ آپ نے رمضان کے بجائے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 408
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2033، صحیح مسلم: 1173»
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لآتِي الْبَيْتَ وَفِيهِ الْمَرِيضُ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلا وَأَنَا مَارَّةٌ وَهِيَ مُعْتَكِفَةٌ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ ، وَكَانَ لا يَأْتِي الْبَيْتَ لِحَاجَةٍ إِلا إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اعتکاف کی حالت میں وہ مریض کے گھر کے پاس سے گزرتیں، تو چلتے چلتے ان کا حال پوچھتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میرے پاس نکالتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں کنگھی کر دیتی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں صرف وضو کرنے کے لیے گھر تشریف لاتے تھے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 409
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2029، صحیح مسلم: 297»