کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابکتاب الزکوٰۃ کا آغاز
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى : إِقَامِ الصَّلاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 334
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1401 ، صحيح مسلم : 56»
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا ، وَلا صَاحِبِ غَنْمٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مَكْسُورَةٌ قُرُونُهَا ، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ : خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيُّ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ يَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ مثل قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ الإِبِلِ ؟ قَالَ : حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اونٹوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ اونٹ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گے اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے کھروں اور پاؤں سمیت اس کو روندیں گے۔ گائیوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ گائیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے پاؤں سے اس کو روندیں گی۔ بکریوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ بکریاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور کھروں سے اس کو روندیں گی، ان میں ایک بکری بھی بغیر سینگوں کے یا ٹوٹے ہوئے سینگوں والی نہ ہوگی۔ جو مالدار آدمی مال کا حق ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا، جب وہ سانپ اس کے پاس آئے گا تو وہ آدمی اس سے بھاگ جائے گا۔ سانپ اسے آواز دے گا کہ اپنا مال لے جا، جسے تو چھپا چھپا کر رکھتا تھا، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب وہ کوئی چارہ نہیں پائے گا تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے اونٹ کی طرح کاٹے گا۔ ابوزبیر کہتے ہیں: یہ الفاظ میں نے عبید بن عمیر سے سنے ہیں، پھر میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح ہی بیان کیا۔ نیز عبید بن عمیر کہتے ہیں: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ فرمایا: گھاٹ پر اس کا دودھ دوہ کر دینا، پانی پلانا، جفتی کے لیے مستعار دینا، تھن دینا اور اللہ کے راستے میں اس پر سوار کرنا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 335
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم : 988/27»
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا فَتَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ نے اپنے مال کی زکاة ادا کر دی تو آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، نیز جس نے حرام مال اکٹھا کر کے اس میں سے صدقہ دیا تو اسے صدقے کا اجر تو نہیں ملے گا، البتہ گناہ اسی کے ذمہ ہو گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : سنن الترمذي : 618، سنن ابن ماجه : 1788 ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2471) امام ابن حبان رحمہ اللہ (3216) امام حاکم رحمہ اللہ (1/390) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، راوی دراج ابوالسمح جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔»
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : ثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلانِ مِنْ بَنِي عَمِّي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي عَلَى بَعْضِ مَا وَلاكَ اللَّهُ ، وَقَالَ الآخَرُ مثل ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لا نُوَلِّي هَذَا الْعَمَلَ أَحَدًا سَأَلَهُ ، وَلا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچازاد بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے جو کام آپ کے سپرد کیے ہیں، ان میں سے کسی کا مجھے امیر مقرر کر دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم یہ کام کسی ایسے شخص کے سپرد نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے یا اس کی خواہش رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 7149 ، صحيح مسلم : 1732»
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ کر امارت نہ لینا۔ اگر بغیر مانگے آپ کو امارت دی گئی تو آپ کی مدد کی جائے گی، اور اگر آپ نے مانگ کر امارت لی تو آپ کو اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 338
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6722 ، صحيح مسلم : 1652»
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : أَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ " يَعْنِي الْعَشَّارَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی ٹیکس خور جنت میں داخل نہیں ہوگا، یعنی دسواں حصہ وصول کرنے والا آدمی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 339
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 4/143-150 ، سنن أبي داود : 2937 ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2333) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/404) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔ محمد بن اسحاق مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔»
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنَ الْمُقْرِئِ : وَقَالَ مَرَّةَ رِوَايَةً : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ چاندی، پانچ وسق غلہ اور پانچ اونٹوں سے کم مقدار پر صدقہ زکاة فرض نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 340
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1447 ، صحيح مسلم : 979»
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : ثَنِي أَبِي ، عَنٍ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي الأَرْبَعِينَ مِنَ الإِبِلِ بِنْتُ لَبُونٍ ، لا تَفَرَّقَ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنْعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ ، عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 341
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 4/2-5 سنن أبي داود : 1575، سنن النسائي : 2446 ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2266) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لِي هَذَا الْكِتَابَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وجُوهِهَا فَلْيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهُ فَلا يُعْطِهِ ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِنْ بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حَقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَتُهُ مِنَ الإِبِلِ الْجَذَعَةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ ابْنُ اللَّبُونِ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ ، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِمِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلا يُجْمَعْ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقْ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعَشْرِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 342
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1448, 1450, 1455»
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمَنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً " , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ : قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاة لینے کے لیے یمن بھیجا، تو چالیس گائیوں سے ایک مسنہ دو سالہ بچہ اور تیس گائیوں سے ایک تبیعہ ایک سالہ بچہ لینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 343
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 1578 ، سنن النسائي : 2454، سنن الترمذي : 623، سنن ابن ماجه : 1803، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2268) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4886) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ (التمهيد : 2/130)، نیز فرماتے ہیں : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذٍ هَذَا الْخَبَرُ بِإِسْنَادٍ مُّتَصِلٍ وَصَحِيحٌ ثَابِتٌ (التمهيد : 2/275) اعمش مدلس ہیں، مسند الشاشي (1348) میں ان سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ روایت سماع پر محمول ہے، سنن الدارمي (1664, 1709) اور المعجم الكبير للطبراني (20/129، ح : 262) میں اعمش کی متابعت عاصم بن بہدلہ نے کر رکھی ہے، رہا مسروق کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ تو یہ سب سے پہلے علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، ان سے اس کا رجوع بھی ثابت ہے۔ (المحلی : 6/16) حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : هُوَ الَّذِي كَانَ رَمَاهَا بِالِانْقِطَاعِ ثُمَّ رَجَعَ (بيان الوهم والإيهام : 2/574) ابن القطان رحمہ اللہ نے بھی انقطاع کا رد کیا ہے، ان سے پہلے یہ رد امام اندلس ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کیا ہے، نیز ائمہ محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کر کے انقطاع کا رد کر دیا ہے۔»
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ السَّلامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، قَالَ : أَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ ، أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس گائیوں پر ایک تبیع یا تبیعہ (ایک سالہ بچہ یا بچی) اور چالیس گائیوں پر ایک مسنہ (دو سالہ بچہ یا بچی) زکاة کے طور پر واجب ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 344
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث حسن : مسند الإمام أحمد : 1/411، سنن الترمذي : 622، سنن ابن ماجه : 1804 ، خصیف بن عبدالرحمن (حسن الحدیث عند الجمہور) کے اختلاط کا مسئلہ ہے، نیز ابو عبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ اوپر والی حدیث اس کا شاہد ہے۔»
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " لا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگوں کی زکاة ان کے گھروں میں جا کر وصول کی جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 345
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 2/80، سنن أبي داود : 1591 ، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (تحفة المحتاج: 914) نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز مسند احمد (2/215، وسندہ حسن) میں ان کی متابعت عبد الرحمن بن حارث نے کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَى مِيَاهِهِمْ وَأَفْنِيَتِهِمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیہاتی لوگوں کی زکاة ان کے پانی کے مقامات (جہاں جانور پانی پیتے ہیں) یا ان کے گھروں کے قریب جا کر وصول کی جائے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 346
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : المعجم الأوسط للطبراني : 346 ، السنن الكبرى للبيهقي : 4/110، عبدالملک بن محمد بن ابی بکر ابوطاہر ثقہ ہیں، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات (7/110) میں ذکر کیا ہے، امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ (تاریخ بغداد : 10/410) نے ثقہ کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہروں اور چشموں سے سیراب ہونے والی زراعت پر عشر (دسواں حصہ) اور رہٹ (کنواں) سے سیراب ہونے والی زراعت پر نصف عشر (بیسواں حصہ) زکاة واجب ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 347
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم : 981»
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : ثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش، چشموں یا خود رو زمین سے سیراب ہونے والی زراعت پر عشر (دسواں حصہ) اور ڈول سے سیراب ہونے والی زراعت پر نصف عشر (بیسواں حصہ) زکاة مقرر کی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 348
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1483»
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ مِنْ حُبٍّ وَلا تَمْرٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ اور کھجوروں پر زکاة واجب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 349
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1447 ، صحيح مسلم : 979»
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنَّ بَنِي شَبَابَةَ بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْلٍ كَانَ عَلَيْهِمُ الْعُشْرَ مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةً ، وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ لَهُمْ ، ثُمَّ أَدُّوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنی سبابہ، جو قبیلہ فہم کا حصہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد میں سے عشر (دسواں حصہ) یعنی دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ادا کرتے تھے، جو ان پر واجب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو وادیوں کا تحفظ فراہم کیا تھا۔ پھر انہوں نے وہی عشر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ادا کیا اور انہوں نے بھی ان کے لیے ان دو وادیوں کا تحفظ جاری رکھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 350
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 1601 ، سنن ابن ماجه : 1824، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2324) نے صحیح کہا ہے، عبدالرحمن بن حارث مخزومی کی سنن ابی داود (1200، وسندہ حسن) اور سنن نسائی (2501) میں عمرو بن حارث نے متابعت کر رکھی ہے۔»
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُخْرَصَ الْعِنَبَ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلَ ، وَأَنْ يَأْخُذَ زَكَاةَ الْعِنَبِ زَبِيبًا كَمَا يَأْخُذُ زَكَاةَ النَّخْلِ تَمْرًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انگوروں کا اندازہ کھجوروں کی طرح لگائیں اور انگوروں کی زکاة منقیٰ (خشک انگور) کی صورت میں لیں، جیسے کھجوروں کی زکاة خشک کھجوروں کی صورت میں لی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 351
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : سنن أبي داود : 1603، سنن النسائي : 2619 ، سنن الترمذي : 644، سنن ابن ماجه : 2619، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2317) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3279) نے صحیح کہا ہے، امام ابو داؤد رحمہ اللہ (1604) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔»
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا ، دَعُوا الثُّلُثَ ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم زراعت کا اندازہ لگاؤ تو زکاة لو اور تیسرا حصہ چھوڑ دو، اگر تیسرا حصہ نہ چھوڑ سکو تو چوتھا حصہ چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 352
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن وللحديث شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن وللحديث شواهد : مسند الإمام أحمد : 3/448، سنن أبي داود : 1605، سنن النسائي : 2493، سنن الترمذي : 643 ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2319) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3280) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/402) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔»
حدیث نمبر: 353
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرٍو الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ عَظِيمٌ ، فَقَالَ : " أَتُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا ؟ قَالَ : وَمَا زَكَاتُهُ ؟ قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ فِي هَذَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عمرو بن یعلیٰ الثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک بڑی انگوٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم اس کی زکاة ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: اس کی زکاة کیا ہے؟ جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت بڑا انگارہ ہے۔ ابومحمد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے اسے سفیان سے اور سفیان نے عمرو بن یعلیٰ الطائفی سے روایت کیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 353
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 4/171 ، المعجم الكبير للطبراني : 22/263، ح : 677 عمرو بن یعلی ثقفی یہ عمرو بن عثمان بن یعلی بن مرہ ثقفی ہے، عمرو بن یعلی راوی مجہول ہے، حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں : لَا تُعْرَفُ حَالُهُ (بیان الوهم والإيهام : 1648) اسی طرح اس کا باپ عثمان بن یعلی مجہول ہے، حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں : لَا تُعْرَفُ حَالُهُ. (أیضاً) المعجم الكبير للطبراني (22/264، ح : 678) اور السنن الكبرى للبيهقی (4/145) میں عمرو بن یعلی ہے، اگر یہ واقعی عمرو بن یعلی ہے، تو یہ اور اس کا باپ دونوں ضعیف ہیں، ایک وجہ ضعف امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی تدلیس بھی ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس سند کے بارے میں کہتے ہیں: هذا بعيد من الصحة (اختصار السنن الكبير : 4/86)»
حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان پر اس کے ذاتی گھوڑے اور غلام پر زکاة نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 354
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1463 ، صحيح مسلم : 982»
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان پر اس کے ذاتی غلام اور گھوڑے پر زکاة نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 355
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1463 ، صحيح مسلم : 982»
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ومَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ عَلَى النَّاسِ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صدقہ فطر فرض کیا، جو ہر آزاد یا غلام، مرد یا عورت مسلمان پر کھجور یا جو کا ایک صاع ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 356
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1504 ، صحيح مسلم : 984»
حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ثَنَا عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمْ نزل نُخْرِجُ الصَّدَقَةَ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ شَعِيرٍ ، فَلَمْ نزل نُخْرِجُهُ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور، منقیٰ، پنیر، سُلت یا جو ادا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کے دو مد جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ چنانچہ لوگوں نے اس کے مطابق عمل شروع کر دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 357
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1508 ، صحيح مسلم : 985»
حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا دَاودُ بْنُ قَيْسٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَمَّا أَنَا فَلا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا روایت اسی سند سے مروی ہے۔ اس میں اضافہ ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں تو ہمیشہ وہی (ایک صاع) ادا کرتا رہوں گا، جیسا کہ میں اب تک ادا کرتا آیا ہوں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 358
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1508 ، صحيح مسلم : 985»
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 359
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1509 ، صحيح مسلم : 986»
حدیث نمبر: 360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ " ، قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا الْخَلْقَانِيُّ ثِقَةٌ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ الْوَاسِطِيُّ ثِقَةٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاة وقت سے پہلے ادا کرنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دی۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن زکریا خلقانی اور حجاج بن دینار واسطی دونوں ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 360
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيفٌ : مسند الإمام أحمد : 1/104 , سنن أبي داود : 1624, سنن الترمذي : 678, سنن ابن ماجه : 1795, اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2313) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (3/232) نے صحیح الاسناد کہا ہے, حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے, حکم بن عتیبہ مدلس ہیں, سماع کی تصریح نہیں کی۔»
حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ صَلَّى عَلَيْهِمْ فَتَصَدَّقَ أَبِي بِصَدَقَةٍ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گھرانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کرتے۔ میرے والد آپ کے پاس صدقہ لے کر آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابی اوفیٰ کی آل پر رحمت فرما۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1497 , صحيح مسلم : 1078»
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا ، فَوَقَّفَهُ الرَّجُلُ يَبِيعُهُ ، فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْتَاعُ الْفَرَسَ الَّذِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبْتَعْهُ وَلا تَرْجِعْ فِي صَدَقَتِكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گھوڑا ایک شخص کو دے دیا۔ اس شخص نے گھوڑے کو بیچنے کے لیے کھڑا کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: کیا میں وہ گھوڑا خرید لوں جو میں نے اللہ کی راہ میں دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اسے خریدو اور نہ اپنے صدقے کی طرف رجوع کرو۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 362
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2775, صحيح مسلم : 1620»
حدیث نمبر: 363
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيِّ وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی اور صحت مند کام کرنے والے شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 363
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«حسن : مسند الإمام أحمد : 2/164 , سنن أبي داود : 1634 , سنن الترمذي : 658 , اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے, حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ (التلخيص الحبير : 3/108)»
حدیث نمبر: 364
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی اور صحت مند کام کرنے والے شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 364
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن وللحديث شواهد بأسانيد صحيحة
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن وللحديث شواهد بأسانيد صحيحة: مسند الإمام أحمد: 377/2، 389، سنن النسائي: 2597، سنن ابن ماجه: 1839، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3290) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ : لِعَامِلٍ عَلَيْهَا ، وَلِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ ، أَوْ غَارِمٍ ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں، سوائے پانچ قسم کے لوگوں کے: (1) زکاة وصول کرنے والا، (2) وہ شخص جو صدقہ اپنے مال سے خریدے، (3) مقروض، (4) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، (5) مسکین جسے صدقہ دیا گیا اور اس نے اسے تحفہ کے طور پر غنی کو دے دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 365
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مصنف عبدالرزاق: 7151، مسند الإمام أحمد: 56/3، سنن أبي داود: 1636، سنن ابن ماجه: 1841، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2374) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (407/1، 408) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : نزلت أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَقَالَ لِي أَهْلِي : اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ ، وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ يَسْأَلْ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " ، قَالَ الأَسَدِيُّ : فَقُلْتُ : لَصحَتُنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، قَالَ مَالِكٌ : وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بنو اسد کے ایک شخص نے کہا: میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بقیع غرقد میں اترا۔ میرے گھر والوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ لاؤ۔ وہ اپنی ضروریات بیان کرنے لگے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو ایک شخص کو آپ سے مانگتے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ شخص غصے میں یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ آپ جسے چاہتے ہیں، دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھ پر اس لیے ناراض ہو رہا ہے کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔ جو شخص ایک اوقیہ یا اس کے برابر مال رکھتا ہو اور پھر بھی مانگے، اس کا مانگنا غیر ضروری (إلحاف) ہے۔ اسدی نے کہا: میں نے سوچا کہ ہماری اونٹنی ایک اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ مالک کہتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ چنانچہ میں بغیر مانگے واپس آ گیا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقیٰ آئے، تو آپ نے اس میں سے ہمارے لیے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں غنی کر دیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 366
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: موطأ امام مالك: 999/2، مسند الإمام أحمد: 36/4، سنن أبي داود: 1627، سنن النسائي: 2592»
حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : " تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نُؤَدِّيهَا عَنْكَ نُخْرِجُهَا إِذَا جَاءَ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : قَالَ : يَا قَبِيصَةُ " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَهُوَ يَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک ضمانت کی ذمہ داری قبول کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ہمارے پاس زکاة کے اونٹ آئیں گے، تو ہم تمہاری طرف سے اسے ادا کر دیں گے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: (1) وہ شخص جس نے کسی کی ضمانت قبول کی ہو، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ (2) وہ شخص جس پر ایسی مصیبت آئے جس نے اس کا سارا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ (3) وہ شخص جسے شدید حاجت اور فاقہ ہو، حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین عقلمند اس کی گواہی دیں، تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 367
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1044»
حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا أَنْفَسَ مِنْهُ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ لا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلا تُوهَبُ وَلا تُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْغُرَمَاءِ وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقے میں ایک زمین ملی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے عمدہ مال میں نے کبھی حاصل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس زمین کے اصل کو روک کر اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا، یہ شرط رکھی کہ اس کا اصل نہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے، نہ وراثت بنایا جائے۔ اس کی پیداوار فقراء، مقروضوں، غلاموں کی آزادی، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کی۔ جو اس زمین کا نگراں ہو، اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اس سے معروف طریقے سے کھائے یا اپنے دوست کو کھلائے، بشرطیکہ وہ اس سے مال جمع نہ کرے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 368
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2772، 7273، صحیح مسلم: 1632»
حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا زِيَادٌ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَقَالَ : يَلِيهَا ذُو الرَّأْيِ مِنْ آلِ عُمَرَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ایوب نے نافع سے ابن عون کی طرح حدیث بیان کی اور کہا کہ اس زمین کا نگراں آل عمر میں سے کوئی اہل رائے ہوگا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 369
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2772، 7273، صحیح مسلم: 1632»
حدیث نمبر: 370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثَةٍ : صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ ، أَوْ عِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: (1) صدقہ جاریہ، (2) وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 370
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1631»
حدیث نمبر: 371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ مِنْ مَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ الصَّدَقَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلیہ کی کانوں سے زکاة وصول کی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 371
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: السنن الكبرى للبيهقي: 148/6، 149، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2323) اور امام حاکم رحمہ اللہ (404/1) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ سند کے سارے کے سارے راوی جمہور کے نزدیک حسن الحدیث ہیں۔»
حدیث نمبر: 372
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَوَّلُ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ سَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي ، قَالَ : ثَنِي سَعِيدٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخم معاف ہے، کان میں گر کر مرنے والے کا خون معاف ہے، اور دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ زکاة) ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 372
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1499، صحیح مسلم: 1710»
حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يُحْشَرُوا وَلا يُعْشَرُوا وَلا يُجَبُّوا وَلا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُحْشَرُونَ وَلا تُعْشَرُونَ وَلا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ غَيْرُكُمْ ، وَلا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط رکھی کہ انہیں جہاد، عشر، اور نماز سے مستثنیٰ کیا جائے، اور ان پر ان کے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہ کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جہاد اور عشر سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے، اور تم پر تمہارے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہیں کیا جائے گا، لیکن جس دین میں رکوع (نماز) نہ ہو، اس میں کوئی خیر نہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 373
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 218/4، سنن أبي داود: 3026، حمید طویل اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»