کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: وتر میں دعائے قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 272
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے ہیں، جنہیں میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» (اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل کر لے، جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل کر لے، جنہیں تو نے عافیت دی ہے، جنہیں تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے، مجھے بھی ان میں شامل کر کے اپنا دوست بنا لے، جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے، اس میں میرے لیے برکت ڈال دے، جس برائی کا تو نے فیصلہ کر دیا ہے، اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقینا تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، جس کا تو والی بن جائے، وہ کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو ہی برکت والا اور بلند ہے)
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الإمام أحمد : 1/199, 200، سنن أبي داود : 1425، سنن النسائي : 1746، سنن الترمذي : 464، سنن ابن ماجه : 1178، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1095, 1096) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (945) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ لَيَقُولَ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ کلمات سکھائے تھے تا کہ وہ انہیں قنوت وتر میں پڑھیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح، وله طرق و شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح، وله طرق و شواهد : انظر الحديث السابق . اس میں ابو اسحاق (عمرو بن عبد اللہ سبیعی) مختلط اور مدلس ہیں، زہیر بن معاویہ نے ان سے بعد از اختلاط روایت لی ہے۔»
حدیث نمبر: 274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنَ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاتِهِ وِتْرًا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ ، إِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَتْ صَلاةُ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ ، فَإِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو رات کو نماز پڑھے، وہ وتر کوسب سے آخر میں ادا کرے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے، جب فجر طلوع ہو جاتی ہے، تو وتر سمیت رات کی نماز کا وقت ختم ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کریں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن الترمذي : 469، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 1/302، شرح مشكل الآثار للطحاوي : 4498، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (2326) اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1091) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/302) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ " كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ قَالَ ابْنُ يَحْيَى : يَأْتِيهِ حَجَّاجٌ نَسَقًا وَاحِدًا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو رات کو نماز پڑھے، وہ وتر کو سب سے آخر میں صبح ہونے سے پہلے ادا کرے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہی حکم دیا کرتے تھے۔ ابن یحیٰی کہتے ہیں: حجاج نے ان دونوں روایات کو ایک ہی انداز میں بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 275
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم : 751/152»