کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ، وَقَرَأْتُهُ، عَلَى ابْنِ نَافِعٍ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ ابْنُ يَحْيَى: لَعَلَّهُمَا قَالَا: ثُمَّ رَفَعَ أَوْ لَمْ يَقُولَاهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ فَقَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُفْرِهِنَّ» ، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ الشَّافِعِيَّ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: وَأَنَا مَالِكٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي شَكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: ثُمَّ رَفَعَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نے لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چنانچہ آپ نے سورت بقرہ (کی تلاوت) کے بقدر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ ابن یحیٰی کہتے ہیں: شاید ان دونوں نے یہ بھی کہا تھا: پھر آپ اٹھے۔ پھر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ ایسا منظر دیکھیں تو اللہ کا ذکر کریں، صحابہ کرام نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس جگہ سے کچھ لیا ہے، پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں پیچھے ہٹتے دیکھا، فرمایا: میں نے جنت دیکھی، یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا، اگر میں وہ خوشہ لے لیتا، تو رہتی دنیا تک آپ اسے کھاتے رہتے، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، ایسا (برا) منظر میں نے (پہلے) کبھی نہیں دیکھا تھا، جیسا آج دیکھا ہے، میں نے اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ان کی ناشکری۔ کسی نے پوچھا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ زندگی بھر کسی عورت (بیوی) سے احسان کرتے رہیں، پھر وہ آپ کی طرف سے کوئی بات مرضی کے خلاف دیکھ لے تو کہتی ہے: میں نے تو تیرے اندر کبھی خیر دیکھی ہی نہیں۔ اس روایت کو ربیع بن سلیمان نے بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے، مگر اس میں محمد بن یحیٰی کے شک والے الفاظ (ثم رفع) کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 248
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1052 ، صحيح مسلم : 907»
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ مسجد میں آئے، نماز کے لیے کھڑے ہوئے، «الله اكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی، پھر «الله اكبر» کہ کر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد»، پھر کھڑے ہو کر لمبی قرآت کی، جو پہلی کی بہ نسبت چھوٹی تھی، پھر «الله اكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر یہ دعا پڑھی: «سمع الله لمن حمده رهنا ولك الحمد»، پھر اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، چنانچہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ستائش بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ گرہن دیکھیں تو فورا نماز پڑھنے لگ جائیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 249
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1064 ، صحيح مسلم : 901»
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور بہت لمبا قیام کیا، پھر بہت لمبا رکوع کیا، پھر اٹھے اور (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر اٹھے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو کہ پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، سر اٹھا کر (دوبارہ) لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب ایسا منظر دیکھو، تو نماز پڑھیں، صدقہ کریں اور اللہ کا ذکر کریں۔ پھر فرمایا: امت محمد! اللہ کی قسم! اللہ عزوجل سے بڑھ کر اس بات میں کوئی غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی (مرد یا عورت) زنا کرے، اے امت محمد! اگر آپ وہ باتیں جان لیں، جو میں جانتا ہوں، تو روتے زیادہ اور ہنستے کم۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 250
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1044 ، صحيح مسلم : 901»
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ طَرْخَانَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، قَالَ : ثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 251
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1054»
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، عَنْ ابْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چاند گرہن میں ہمیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 252
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2519»