حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ وَعَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الْآيَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ {فإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَرَهُمْ " قَالَ ابْنُ يَحْيَى: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَا: " فَأَخَذُوا السِّلَاحَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، والْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا مَكَانَهُمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ: وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ " وَفِي هَذَا النَّحْوِ رَوَى عَطَاءٌ وَأَبُوالزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مقام عسفان پر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مشرکین کے مدمقابل تھے، ان کے سپہ سالار سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) تھے، وہ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرکین کہنے لگے: یہ (مسلمان) ایسی حالت میں تھے کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، پھر کہنے لگے: ابھی ان پر ایک نماز آنے والی ہے، جو انہیں اپنی جانوں اور بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ جبریل علیہ السلام نماز ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیت لے کر اترے: «فَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» (جب آپ ان میں موجود ہوں اور انہیں نماز پڑھائیں....... الخ) راوی کہتے ہیں: نماز کا وقت ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہوں نے اسلحہ اٹھا لیا، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، آپ نے رکوع کیا، تو ہم سب نے بھی رکوع کیا، آپ رکوع سے اٹھے، تو ہم بھی اٹھ گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرتے رہے، جب وہ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو دوسری صف والوں نے ان کی جگہ بیٹھ کر سجدہ کیا، پھر پچھلی صف والے آ گے اور اگلی صف والے پیچھے چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرنے لگے، جب وہ سجدہ کر کے بیٹھ گئے، تو دوسری صف والوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اس طرح نماز (خوف) پڑھی ہے، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنی سلیم کے علاقے میں۔ عطاء اورابو زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نماز بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت نماز خوف پڑھائی، جب کہ دوسرا گروہ دشمن کے مد مقابل تھا، پھر پہلے والے جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کے مد مقابل کھڑے ہو گئے اور وہ (نماز کے لیے) آ گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور دونوں گروہوں نے (باقی) ایک ایک رکعت پوری کر لی۔
حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: «يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ وَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا» قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: مَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا، تو فرماتے: لوگوں کا ایک گروہ امام کے ساتھ آگے بڑھے اور امام انہیں ایک رکعت نماز پڑھا دے، جب کہ دوسرا گروہ نماز نہ پڑھے، بل کہ ان کے اور دشمن کے درمیان کھڑا رہے، جب وہ لوگ ایک رکعت پڑھ لیں، جو امام کے ساتھ تھے، تو وہ ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، سلام نہ پھیریں اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ آگے بڑھ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لیں، پھر امام جو کہ دو رکعتیں پڑھ چکا ہے، سلام پھیر دے، دونوں گروہ کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت ادا کر لیں، یوں دونوں گروہوں کی دو دو رکعتیں ادا ہو جائیں گی، اگر خوف بہت زیادہ ہو جائے، تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لیں یا سوار ہو کر پڑھ لیں، نیز منہ قبلہ کی جانب ہو یا کسی اور جانب۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 235
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِمْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا حَتَّى أَتِمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
صالح بن خوات رحمہ اللہ اس آدمی سے بیان کرتے ہیں، جس نے غزوۃ ذات رقاع کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی کہ ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف میں شامل ہو گیا اور ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ایک رکعت پڑھا کر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو دوسری رکعت انہوں نے علیحدہ پڑھ لی، یہ دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہو گئے، تو دوسرا گروہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ایک رکعت ان کو پڑھائی اور سیدھے بیٹھ گئے، حتی کہ دوسری رکعت انہوں نے خود پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: تَقُومُ طَائِفَةٌ بَيْنَ يَدَيِ الْإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابِهِمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ایک گروہ امام کے آگے کھڑا ہو گا اور ایک گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہو گا، پھر امام نے پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے (ایک رکعت پڑھائے) کرائے اور اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا حتی کہ وہ مزید ایک رکوع اور دو سجدے کر لیں (دوسری رکعت پڑ لیں)، پھر یہ اپنے ساتھیوں کی جگہ اور وہ ان کی جگہ چلے جائیں گے، امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے کرائے اور اپنی جگہ بیٹھا رہے حتی کہ وہ مزید ایک رکوع اور دو سجدے کر لیں، پھر سلام پھیر دے۔
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَنَا يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى} [النساء: ١٠٢] «عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ جَرِيحًا»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کریمہ کے متعلق فرماتے ہیں: اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو (تو نماز جمع کر لو)، اس وقت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی تھے۔