حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں امام کو کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہو، تو مرد «سبحان الله» کہیں اور خواتین تالی بجائیں (ہاتھ پر ہاتھ ماریں)۔
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ صَفَّحْتُمْ إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ "
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا ہو گیا ہے، جب آپ کو نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو تالیاں بجانے لگتے ہیں؟ حالانکہ یہ حکم تو صرف خواتین کے لیے ہے، اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ در پیش ہو جائے تو وہ «سبحان الله» کہے۔
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ ابْنَ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي فإنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ» ، قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَتَطَيَّرُونَ فَقَالَ: «ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ» ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَأَطْلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ آسِفٌ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ: «هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، تو میں نے کہ دیا «يَرْحَمُكَ اللهُ» لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں، تو میں چپ کر گیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی استاذ ایسا نہیں دیکھا، جو آپ سے بہتر تعلیم دینے والا ہو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے، ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نہ جایا کریں۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں؟ فرمایا: یہ محض ان کا وہم ہے۔ یہ فال وغیرہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ خط (لکیریں) کھینچتے ہیں؟، فرمایا: ایک نبی (ادریس علیہ السلام) خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط اس کے موافق ہو گیا، وہ تو درست ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ پہاڑ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا، تو ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے کے جا چکا تھا، چونکہ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی ان کی طرح غصہ آ گیا، میں نے اس (لونڈی) کو زور دار تھپڑ مار دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا، تو آپ نے اسے میرے حق میں بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ عرض کی کہ میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں۔ میں اسے آپ کے پاس لے آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مؤمنہ ہے۔
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بھی دو کالی چیزوں (سانپ اور بچھو) کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى وَعَلَى عُنُقِهِ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمْلَهَا»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمامہ بنت ابو العاص رضی اللہ عنہما کو کندھے پر اٹھا کر نماز پڑھی، جب رکوع کرتے، تو انہیں بٹھا دیتے، جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔
حدیث نمبر: 215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنَا نَافِعٌ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ قَالَ: فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ: فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: يَقُولُ هَكَذَا وَبَسَطَ كَفَّهُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار نے آکر سلام کہا، سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے بلال! آپ نے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنی تھیلی کو پھیلا دیا اور کہا: اس طرح۔
حدیث نمبر: 216
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً» قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، آپ نے اشارہ سے جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ اللَّيْثِ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَأَنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو ہمیں کھڑا دیکھ کر (بیٹھنے کا) اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: ثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: ثَنِي مُعَيْقِيبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوران نماز) مسجد میں کنکریوں کو چھونے کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا: اگر ایسا کرنا ہی ہے، تو ایک بار کر سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو، تو کنکریوں کو نہ چھیڑے، کیونکہ رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران کولہوں پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 221
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ غَلَبَهُ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں جمائی آئے، تو وہ اسے حسب استطاعت رو کے، اگر نہ روک سکے، تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز میں بے وضو ہو جائے تو اپنی ناک پکڑ کر نکل آئے۔
حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَابْنِ سَمْعَانَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر رات کا کھانا آ جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے، تو پہلے کھانا کھا لیں، بعد میں نماز مغرب ادا کر لیں۔