حدیث نمبر: 88
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ» ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَا يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس عورت کے متعلق پوچھا ، جو خواب میں مرد کی طرح (منی) دیکھتی ہے، فرمایا: اگر پانی (منی) دیکھے، تو غسل کرے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا، آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ، بھلا کبھی عورت کو بھی احتلام ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا ہاتھ خاک آلود ہو ، تو پھر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ الِاحْتِلَامَ قَالَ: «يَغْتَسِلُ» ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، ایک آدمی نے کپڑے پر نمی کے اثرات پائے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں (تو وہ کیا کرے) فرمایا: اسے غسل کرنا چاہیے۔ ایک آدمی کو احتلام تو یاد ہے، لیکن کپڑوں پر نمی کے نشانات نہیں ہیں؟ فرمایا: اس پر غسل ضروری نہیں ۔
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ: فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے ، نیز اس میں یہ اضافہ ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول ! اگر عورت ایسا دیکھے، تو کیا اس پر بھی غسل (فرض) ہو گا؟ فرمایا: جی ہاں ! عورتیں بھی مردوں کی فرع ہیں۔
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: ثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْهُمْ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَأَبُو أَيُّوبَ يَقُولُونَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَنْ مَسَّ امْرَأَتَهُ غُسْلٌ مَا لَمْ يُمْنِ، فَلَمَّا ذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَبَوْا ذَلِكَ فَقَالُوا: إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَقَالَ سَهْلٌ الْأَنْصَارِيُّ وَقَدْ أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فِي زَمَانِهِ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ الْفُتْيَا الَّذِي كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ " وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَخَذَ بِذَلِكَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا بَلَغَهُ الْعِلْمُ اغْتَسَلَ وَأَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما سمیت کچھ انصاری صحابہ کرام کہا کرتے تھے: پانی (غسل) پانی (انزال) سے ہے، نیز وہ کہتے تھے: اس آدمی پر غسل واجب نہیں ہے ، جو عورت کو چھوتا ہے ، مگر اسے انزال نہیں ہوتا ، جب یہ بات سیدنا عمر، عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کو بتائی گئی ، تو انہوں نے اس کی تردید کی اور فرمایا: اگر (مرد کی) شرمگاہ (عورت کی ) شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جو کہ پندرہ سال کی عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے، فرماتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» والا فتویٰ شروع اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصت تھی ، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دے دیا۔ عبد الملک بن مروان رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ کسی انصاری سے اخذ کیا تھا ، جب انہیں غسل کرنے کا علم ہوا ، تو خود غسل کرنے لگے اور غسل کا حکم دینے لگے۔
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ» ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو نُعَيْمٌ: ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ کر (جماع کی ) کوشش کرتا ہے، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ عبد الصمد اور ابو نعیم کی حدیث میں «ثُمَّ جَهَدَهَا» کے الفاظ ہیں ۔
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْغَزِّيُّ، قَالَ: ثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَتْ: «فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا» وَرَفَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَيْضًا.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی جماع کرتا ہے ، لیکن انزال نہیں ہوتا (تو وہ کیا کرے؟ ) آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا، تو ہم نے اکٹھے غسل کیا۔ ولید بن مسلم نے بھی اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا فَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَتَهَيَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ جَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ فَكَأَنَّمَا أَنْكَرْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنَأْكُلُ مَعَهُ اللَّحْمَ وَلَا يَحْجِزُهُ» ، وَرُبَّمَا قَالَ: «وَلَا يَحْجُبُهُ عَنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةُ» قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: نَعْرِفُ وَنُنْكِرُ يَعْنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ كَانَ كَبِرَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ عَمْرٌو.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبد اللہ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے قبیلے کے دو آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، میرا خیال ہے ایک آدمی بنو اسد میں سے بھی تھا، آپ نے ان دونوں کو یہ کہہ کر شہر کی دوسری جانب بھیج دیا کہ آپ ضخیم و جسیم ہیں ، اس لیے وہاں جا کر دین کی خدمت کریں۔ آپ بیت الخلا میں چلے گئے ، پھر واپس آکر پانی منگوایا ، اس سے ایک چلو لے کر ہاتھ دھوئے اور قرآن کی تلاوت شروع کر دی ، ہم نے عجیب سا محسوس کیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے بیت الخلا سے نکلتے ، تو قرآن پڑھتے ، ہمارے ساتھ گوشت کھاتے ، جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ کو ان کاموں سے نہیں روکتی تھی۔ یحیٰی کہتے ہیں: امام شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہا کرتے تھے: یہ ہمارے نزدیک معروف بھی ہے اور منکر بھی ، کیوں کہ جب عمرو کی ملاقات عبداللہ بن سلمہ سے ہوئی ، تو اس وقت وہ (عبداللہ ) بوڑھے ہو چکے تھے۔
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «لِيَتَوَضَّأْ وَلْيَنَمْ وَلْيَطْعَمْ إِنْ شَاءَ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آدمی حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ فرمایا: وضو کرے اور سو جائے ، چاہے تو کھا بھی سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ: فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ؟» قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے ، کہتے ہیں: میں واپس لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کہاں چلے گئے تھے؟ ، عرض کیا: میں جنبی تھا ، فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
حدیث نمبر: 97
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «سَتَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ کیا ، آپ نے غسل جنابت فرمایا۔
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي» أَوْ قَالَ: «فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! میں بالوں کو خوب اچھی طرح سر پر گوندھتی ہوں ، تو کیا غسل جنابت کے وقت انہیں کھول دیا کروں؟ فرمایا: اتنا ہی کافی ہے کہ سر پر تین لپ پانی ڈال لیں ، پھر پورے بدن پر پانی ڈالیں ، آپ پاک ہو جائیں گی۔ یا یوں فرمایا: ایسا کریں گی تو پاک ہو جائیں گی۔
حدیث نمبر: 99
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ،: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ غُسِلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ قَالَتْ: «كَانَ يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ أُصُولَ شَعْرِةِ رَأْسِهِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ اغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهُنَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دونوں ہاتھ دھویا کرتے تھے، پھر نماز کی طرح کا وضو کیا کرتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے ، جب جلد تر ہونے کا یقین ہو جاتا تو تین چلو پانی سر پر ڈالتے ، پھر پورے جسم پر پانی بہا لیتے۔
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: " اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوْ قَالَ: بِالْحَائِطِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً لِيَتَنَشَّفَ بِهَا أَوْ لِيَمْسَحَ بِهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يَنْفُضُهَا ".
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ، تو (پہلے) شرمگاہ کو دھویا، پھر ہاتھ زمین یا دیوار پر رگڑا ، پھر نماز کی طرح وضو کیا ، پھر سرسمیت پورے جسم پر پانی بہایا ، پھر ایک طرف ہٹ کر پاؤں دھوئے۔ میں نے آپ کو کپڑا دیا، تا کہ اس سے جسم خشک کر لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لینے سے انکار کر دیا اور ہاتھ سے پانی جھاڑ نے لگے ۔