کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: اعمال میں نیت کے (ضروری ہونے کے) بارے میں
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يُخْبِرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّ لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا: اعمال کا بدلہ نیت پر منحصر ہے ، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی، اس کی ہجرت انہی کی خاطر ہو گی اور جس نے حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت ان چیزوں کے لیے ہی ہو گی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 64
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1، صحيح مسلم: 1907»