المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الأحكام باب: احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِنْ قَضَيْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " ، الْحَدِيثُ لِهَارُونَ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے جھگڑے میرے پاس لے کر آتے ہیں، میں بھی ایک انسان ہی ہوں ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ فصیح البیان ہو، اگر میں آپ میں سے کسی کے لیے اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں، تو میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، چنانچہ وہ اس میں سے کچھ بھی وصول نہ کرے۔ یہ الفاظ ہارون بن اسحاق کی حدیث کے ہیں۔