حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى أَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي ، قَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، فَكُلُوهُ هَنِيئًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میرا باپ میرا مال ضائع کرنا چاہتا ہے، فرمایا: آپ اور آپ کا مال آپ کے باپ کی (ملکیت) ہے، آپ کا سب سے پاکیزہ کھانا آپ کی کمائی ہے اور آپ کی اولاد کا مال آپ کی کمائی ہے، چنانچہ آپ اسے بخوبی کھا سکتے ہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 995
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 2/214، سنن أبي داود : 3530، سنن ابن ماجه : 2292»