المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في النحل والهبات باب: عطیات اور ہبات (تحفوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ : ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالا : أنا عِيسَى ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعُ فِيهَا إِلا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا نَمَّ ، وَقَالَ عَلَى شِبَعٍ ، قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تحفہ دے کر اس سے واپس لے لے، بجز والد کے، جو وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے، جو تحفہ دے کر واپس لیتا ہے، اس کی مثال کتے جیسی ہے، جو کھاتا ہے، جب سیر ہو جاتا ہے، تو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹ لیتا ہے۔