حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : ثنا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَلَنِي نُحْلا لِيُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ هَذَا الْغُلامَ نُحْلا فَاشْهَدْ عَلَيْهِ ، قَالَ : " أَكَلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتُ مثل هَذَا ؟ قَالَ : لا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2587، صحیح مسلم : 1623»