المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في العمرى والرقبى باب: عمریٰ اور رقبیٰ (عطیہ کی مخصوص اقسام) کا بیان
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا رُقْبَى ، وَلا عُمْرَى ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا ، أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " ، قَالَ : وَالرُّقْبَى : أَنْ يَقُولَ هُوَ لِلآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ ، وَالْعُمْرَى : أَنْ يَجْعَلَ لَهُ حَيَاتَهُ أَنْ يَعْمُرَهُ حَيَاتَهُمَا ، قَالَ عَطَاءٌ : فَإِنْ أَعْطَاهُ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ أَوْ شَيْئًا يُسَمِّيهِ فَهِيَ مَنِيحَةٌ يَمْنَحَهَا إِيَّاهُ لَيْسَ بِعُمْرَى .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ رقبی (واپس لینا) جائز ہے اور نہ عمری، جسے عمری یا رقبی دیا گیا، تو وہ چیز زندگی میں بھی اسی کی ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی کی ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رقبی یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی میں پہلے مر گیا، تو تیری ہے اور تو پہلے مر گیا، تو مجھے واپس مل جائے گی) اور عمری یہ ہے کہ اس کی زندگی تک وہ چیز اسے دے دے۔ عطاء کہتے ہیں: اگر ایک سال یا دو سال یا مقررہ مدت تک کے لیے دے، وہ تحفہ ہے، عمری نہیں ہے۔