المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في العمرى والرقبى باب: عمریٰ اور رقبیٰ (عطیہ کی مخصوص اقسام) کا بیان
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا " ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو عمری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ (دینے والا) کہے: یہ تیرے اور تیرے ورثا کے لیے ہے، اگر وہ یوں کہے: جب تک تو زندہ ہے، یہ چیز تیری ہے، تو وہ مالک کو واپس مل جائے گی۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری کا یہی فتویٰ تھا۔