المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في العتاقة باب: غلام آزاد کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ " وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا " وَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سننے کے بعد میں بنو تمیم سے محبت کرتا رہوں گا۔ (1) میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: میری امت میں سے وہ (بنو تمیم) دجال کے مقابلے میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے، (2) ان کے صدقات آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ (3) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان (بنو تمیم) میں سے ایک لونڈی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دیں، کیوں کہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔