حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، قَالَ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَغْلاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تُعِينُ ضَائِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : تُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ انہوں نے پوچھا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ فرمایا جو زیادہ قیمتی اور اپنے مالکوں کو زیادہ پیارا ہو۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر میں ایسا (غلام آزاد) نہ کر سکوں تو؟ فرمایا: کسی ضائع ہونے والے کی مدد کر دیں، یا کسی بے ہنر کا کام کر دیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں اس سے بھی عاجز آ جاؤں (یعنی یہ بھی نہ کر سکوں)؟ فرمایا: برائی سے باز رہیں، یہ ایسا صدقہ ہے، جو آپ خود اپنے اوپر ہی کریں گے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 969
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2818، صحيح مسلم : 84۔»