المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في العتاقة باب: غلام آزاد کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ ، حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَالْفَرْجِ الْفَرْجَ " ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : يَا سَعِيدُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عِنْدَ ذَلِكَ لِغُلامٍ لَهُ إِمْرَةِ غِلْمَانِهِ : ادْعُ لِي مُطَرِّفًا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ .سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مؤمن غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیں گے، حتی کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، ٹانگ کے بدلے ٹانگ اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ کو آزاد کر دیں گے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ نے پوچھا: سعید! آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود یہ حدیث سنی ہے، تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تب علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلاموں کے امیر سے کہا: مطرف کو میرے پاس بلائیں، جب وہ آپ کے سامنے آیا، تو آپ نے فرمایا: جائیے، آپ اللہ کی خاطر آزاد ہیں۔