المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في المواريث باب: وراثت کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحَ مَكَّةَ : " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ " .سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا تھا: دو ادیان کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال کی وارث بنے گی اور خاوند بیوی کی دیت اور مال کا وارث بنے گا، جب تک ان میں سے کسی نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو، تو وہ اس کی دیت اور مال میں سے کچھ بھی وارث نہیں بنے گا، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا ہو، تو وہ اس کے مال کا وارث تو بنے گا، دیت کا وارث نہیں بنے گا۔