حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ ، وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ الْكِلابِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ " يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیت کے حقدار عاقلہ (باپ کی طرف سے رشتہ دار) ہیں، بیوی کو خاوند کی دیت سے وراثت نہیں ملے گی، حتی کہ ضحاک کلابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے وارث بناؤں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 966
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح وللحديث شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح وللحديث شواهد : مسند الإمام أحمد : 3/452، سنن أبي داود : 2927، سنن الترمذي : 2110، سنن ابن ماجه : 2642، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔ السنن الکبری للنسائی (6364) میں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»