حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً " ، وَقَالَ الْهَيْثَمُ : أَوْ كَلا فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے لیے اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حقدار ہوں، جو قرض یا عیال چھوڑ گیا (ہیثم نے کلا کا لفظ بولا ہے) تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور جو (مسلمان) مال چھوڑ گیا، تو وہ اس کے ورثا کا ہے، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو میں اس کا مولیٰ ہوں۔ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا، اس کے قیدی کو چھڑاؤں گا، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو ماموں اس کا مولیٰ ہوگا، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 965
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 4/131، سنن أبي داود : 2900، السنن الكبرى للنسائي : 6356، سنن ابن ماجه : 2738، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5633) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6035) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/344) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، صحیح ابی عوانہ (5636) اور صحیح ابن حبان (6036) میں بسند حسن اس کا شاہد بھی آتا ہے۔»