حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ ، قَالَ : فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ فِي الأَعْرَاضِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَ غُلامًا فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ لا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ ، قَالَ : فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلِيُّ مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور اپنے جنگجوؤں کو تیر اندازی سکھائیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ (لوگ) مال غنیمت کے متعلق جھگڑ رہے تھے کہ ایک نامعلوم تیر آیا، اس نے ایک لڑکے کو مار ڈالا جو کہ اپنے ماموں کے زیر پرورش تھا، اس کے باپ کا کوئی پتہ نہ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ میں اس کی دیت کس کے حوالے کروں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اللہ اور اس کا رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 964
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيفٌ : مسند الإمام أحمد : 1/28، السنن الكبرى للنسائي : 6351، سنن الترمذي : 2103، سنن ابن ماجه : 2737۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5635) اور ابن حبان رحمہ اللہ (6037) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»