المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في المواريث باب: وراثت کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ قَالَ : " لَكَ السُّدُسُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ سُدُسٌ آخَرُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَأَقَلُّ شَيْءٍ يَرِثُ الْجَدُّ السُّدُسُ ، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَهُ السُّدُسَ ، وَلا نَدْرِي مَعَ مَنْ وَرَّثَهُ ؟ .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ایک اور بھی چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: دادے کی کم سے کم وراثت چھٹا حصہ ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے، نیز ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے اسے کس وارث کے ساتھ شامل کر کے چھٹا حصہ دلایا ہے۔