المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في المواريث باب: وراثت کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبَيْصَة بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ ، فَسَأَلَ النَّاسَ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حُضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ مِثْلَمَا قَالَ الْمُغِيرَةُ ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَمَا الْقَضَاءُ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ إِلا لِغَيْرِكِ ، وَمَا أَنَا زَائِدٌ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا ، وَأَيُّكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا " .قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی نانی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتاب اللہ میں تو آپ کا کوئی حصہ مذکور نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے مجھے آپ کا حصہ معلوم ہے، واپس چلی جائیں، میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا، چنانچہ آپ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے (جدہ کو) چھٹا حصہ عطا کیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی (گواہ) ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر وہی بات کی، جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے یہ حکم نافذ کر دیا۔ پھر دوسری دادی نانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں تو آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ ہمیں پہنچا ہے، وہ آپ کے متعلق نہیں ہے، نیز میں فرائض میں اپنی طرف سے کچھ نہیں بڑھا سکتا اور آپ کا چھٹا حصہ ہے، اگر آپ دونوں موجود ہوں، تو وہ آپ دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور اگر آپ میں سے کوئی اکیلی ہوگی تو وہ چھٹا حصہ اسی کا ہی ہوگا۔