المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في المواريث باب: وراثت کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 ، قَالَ : وَرَثَةً ، وَفِي قَوْلِهِ : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33 ، قَالَ : كَانَ الْمُهَاجِرِيُّ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ بِالأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَلَمَّا نزلت الآيَةُ : وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 نسخت ، ثُمَّ قَرَأَ : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33 مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ ، وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ " .سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن مجید کی آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) کے متعلق فرمایا: موالی کا معنی ورثا ہے اور ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) (جن لوگوں نے تم سے پکی قسمیں کھائی ہیں، انہیں بھی ان کا حصہ دو) کے متعلق فرماتے ہیں: مہاجرین جب مدینہ آئے، تو اس اخوت کی بنا پر انصار کا ترکہ پاتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کی تھی اور اپنے رشتہ داروں کا ترکہ نہیں پاتے تھے، جب آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) نازل ہوئی، تو پہلی آیت منسوخ ہوگئی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) یعنی امداد، تعاون، خیر خواہی اور ان کے حق میں وصیت باقی ہے جب کہ میراث ختم ہوگئی ہے۔