حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَهَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمِيرَاثِ لِبَنِي الأُمِّ وَالأَبِ ، دُونَ بَنِي الْعَلاتِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اور تم (قرآن میں) پڑھتے ہو: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصى بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ (کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاقی بھائیوں کی بجائے حقیقی بھائیوں کے حق میں وراثت کا فیصلہ کیا تھا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 950
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيفٌ : مسند الإمام أحمد : 1/131، سنن الترمذي : 2094، سنن ابن ماجه : 2715، ابو اسحاق مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ نیز حارث بن عبداللہ جمہور ائمہ محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔»