المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الوصايا باب: وصیتوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ جَابِرٍ ، وَحَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، وَغَيْرِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ ، فَكَانَ فِيمَا تَكَلَّمَ بِهِ : " أَلا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ أَلا لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ وغیرہ بیان کرتے ہیں جو کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔