المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الوصايا باب: وصیتوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلاثًا ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ، قَالَ : وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلا شَدِيدًا " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے فوت ہوتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے، جب کہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال ہی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے مابین قرعہ ڈال کر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام بنا دیا اور اس آدمی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ استعمال کیے۔