حدیث نمبر: 947
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : ثنا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي ، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : لا ، قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : لا ، قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مکہ میں اتنا بیمار ہوا کہ قریب المرگ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور صرف ایک بیٹی ہی میری وارث ہے، کیا میں دو تہائی مال صدقہ کرنے کی وصیت کر دوں؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: آدھا مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ فرمایا: ایک تہائی (ہوسکتا ہے) لیکن یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ اپنے ورثا کو خوشحال چھوڑ کر جائیں، تو انہیں تنگ دست چھوڑنے سے بہتر ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 947
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6373، صحيح مسلم : 1628۔»