المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في النذور باب: نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: اللہ کے رسول! میری بہن فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں (تو کیا میں رکھ لوں؟)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتائیے، اگر آپ کی بہن کے ذمے قرض ہوتا، تو آپ اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: تو اللہ کا حق زیادہ ضروری ہے۔