المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
في الجنابة والتطهر لها باب: جنابت اور اس سے طہارت (غسل) کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا فَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَتَهَيَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ جَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ فَكَأَنَّمَا أَنْكَرْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنَأْكُلُ مَعَهُ اللَّحْمَ وَلَا يَحْجِزُهُ» ، وَرُبَّمَا قَالَ: «وَلَا يَحْجُبُهُ عَنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةُ» قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: نَعْرِفُ وَنُنْكِرُ يَعْنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ كَانَ كَبِرَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ عَمْرٌو.عبد اللہ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے قبیلے کے دو آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، میرا خیال ہے ایک آدمی بنو اسد میں سے بھی تھا، آپ نے ان دونوں کو یہ کہہ کر شہر کی دوسری جانب بھیج دیا کہ آپ ضخیم و جسیم ہیں ، اس لیے وہاں جا کر دین کی خدمت کریں۔ آپ بیت الخلا میں چلے گئے ، پھر واپس آکر پانی منگوایا ، اس سے ایک چلو لے کر ہاتھ دھوئے اور قرآن کی تلاوت شروع کر دی ، ہم نے عجیب سا محسوس کیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے بیت الخلا سے نکلتے ، تو قرآن پڑھتے ، ہمارے ساتھ گوشت کھاتے ، جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ کو ان کاموں سے نہیں روکتی تھی۔ یحیٰی کہتے ہیں: امام شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہا کرتے تھے: یہ ہمارے نزدیک معروف بھی ہے اور منکر بھی ، کیوں کہ جب عمرو کی ملاقات عبداللہ بن سلمہ سے ہوئی ، تو اس وقت وہ (عبداللہ ) بوڑھے ہو چکے تھے۔