حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : ثني وُهَيْبٌ ، قَالَ : ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلا يَقْعُدَ ، وَلا يَسْتَظِلَّ ، وَلا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ ، فَقَالَ : " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دھوپ میں کھڑے دیکھا، تو اس کے متعلق (لوگوں سے) پوچھا: انہوں نے بتایا: یہ ابو اسرائیل ہیں، انہوں نے نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑے رہیں گے، نہ بیٹھیں گے، نہ سائے میں جائیں گے، نہ کلام کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہیں کہ کلام کریں، سائے میں آجائیں، بیٹھ جائیں اور روزہ پورا کریں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 938
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 6704۔»