المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في النذور باب: نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثنا دَاوُدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتِهِ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيُّ عَنْ نَذَرِ أُخْتِكَ ، لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " ، وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : وَلْتُهْدِ بَدَنَةً .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بہن کے متعلق پوچھا، جس نے کعبہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کی بہن کی نذر سے بے نیاز ہے، وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ ذبح کر دے۔ اس روایت کو خالد حذاء نے بھی عکرمہ سے بیان کیا ہے، لیکن اونٹ ذبح کرنے کا ذکر نہیں کیا۔